منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

خواتین حجاب پہننا چاہتی ہیں یا نہیں یہ ان کا اپنا انتخاب ہے، ملالہ یوسفزئی کی انسٹا گرا م پر اہم پوسٹ

datetime 7  مارچ‬‮  2022 |

لندن (این این آئی)دنیا کا اہم ترین ایوارڈ نوبیل انعام حاصل کرنے والی ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ خواتین حجاب پہننا چاہتی ہیں یا برقع اتارنا چاہتی ہیں، یہ ان کا اپنا انتخاب ہے۔یہ بات ملالہ یوسف زئی نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کی جس میں خواتین کے حقوق پر لکھے جانے والے اپنے ایک مضمون کا لنک بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ دونوں میں سے کسی کی بھی حمایت نہیں کرتی بس یہ کہنا چاہتی ہیں کہ

اس میں کسی کا انتخاب ک احق خواتین کو ہے۔انہوںنے کہاکہ اس سے بھی اہم معاملات ہیں جن کے لیے لوگوں کو لڑنا چاہیے جیسے خواتین کی انفرادی آزادی، ان کی تعلیم اور خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام۔اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ کئی برس قبل میں نے طالبان کے خلاف آواز بلند کی تھی جو خواتین کو برقع پہننے پر مجبور کررہے تھے، اور گزشتہ ماہ میں نے بھارتی حکام کے خلاف بات کی جو لڑکیوں کو اسکولوں میں حجاب اتارنے پر مجبور کررہے ہیں،یہ تضاد نہیں، دونوں معاملات میں خواتین کو ہدف بنایا جارہا ہے، اگر کوئی مجھے میرا سر ڈھانپنے پر مجبور کرے تو میں احتجاج کروں گی، اگر کوئی مجھے میرا اسکارف اتارنے پر مجبور کرے تو بھی میں احتجاج کروں گی۔انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بحث سے باہر نکل کر ان معاملات پر توجہ دیں جن کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی خاتون برقع کا انتخاب کرے یا بکنی کا، اسے یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے،ہمارے پاس آکر خواتین کی انفرادی آزادی اور خودمختاری پر بات کریں، تشدد کی روک تھام، تعلیم اور جبر کو روکنے کی بات کریں، ہمارے پاس ملبوسات پر اعتراضات لے کر نہ آئیں۔انہوں نے اپنے ایک مضمون کا لنک دیتے ہوئے کہا کہ ہر خاتون کے حق کے دفاع کیلئے میرا مضمون پڑھیں تاکہ تعین کرسکیں کہ پوڈیم پر انہیں کیا پہننا چاہیے’۔اس مضمون میں ملالہ یوسف زئی نے اپنے چند تجربات کا ذکر کیا ہے جیسے کالج میں ان کے ملبوسات پر لوگوں نے کیسے ردعمل کا اظہار کیا۔ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ آکسفورڈ میں کالج میں میری ایک تصویر دنیا بھر میں شہ سرخیوں میں آئی جس میں، میں نے جیکٹ، جینز اور اسکارف پہنا ہوا تھا۔انہوںنے کہاکہ کچھ افراد روایتی شلوار قمیض کی جگہ اس لباس کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے، انہوں نے مجھ پر بہت زیادہ مغربی ہونے کی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ میں نے اسلام اور پاکستان کو چھوڑ دیا ہے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ جینز کی اس وقت تک اجازت ہے جب تک میں نے اسکارف پہنا ہوا ہے، دیگر نے کہا کہ میرا اسکارف جبر کی علامت ہے اور مجھے اسے اتار دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں نے کچھ بھی نہیں کہا، مجھے لگا کہ مجھے اپنا دفاع کرنے یا دوسروں کی توقعات پر پورا اترنے کی ضرورت نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے اپنے اسکارف سے محبت ہے،میں جب اس کو پہنتی ہوں تو میں خود کو اپنی ثقافت کے قریب محسوس کرتی ہوں۔ مجھے توقع ہے میرے گائوں کی لڑکیاں ان کی طرح نظر آنے والی اور لباس پہننے والی اپنی تعلیم مکمل کرسکتی ہے، کیرئیر شروع اور اپنے مستقبل کا انتخاب کرسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…