اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

حکومت کے اتحادی بھی آج سابق وزیراعظم کے فیصلے کے منتظر ہیں، آئندہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا فیصلہ نواز شریف کریں گے، رانا ثنا اللہ

datetime 26  فروری‬‮  2022 |

لاہور(این این آئی)مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ او رموقف کامیاب نظر آرہا ہے،یہاں کوئی اشارہ نہیں ہوتا بلکہ یہی کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی مرضی کریں اور جو سیاسی طو رپر مناسب ہے وہ کریں،اتحادی کسی اور کے ہیں لیکن وہ بھی آج نواز شریف کے فیصلے کے منتظر ہیں،

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد ملک کا آئندہ وزیر اعظم اورپنجاب کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا اس کا فیصلہ بھی نواز شریف کریں گے۔ لاہور ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کے انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ آج ملک کی جو صورتحال ہے اس میں نواز شریف کا بیانیہ اور موقف کامیاب نظر آرہا ہے۔ نواز شریف کا موقف تھاکہ سیاست کرنا سیاستدانوں کا کام ہے اور انہیں ہی کرنی چاہیے، غیر سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیے، ٹیلی فون اور اشارے سیاست کو خراب کرتے ہیں، آج نواز شریف کا بیانیہ کامیاب ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنا ہوم ورک مکمل کرکے فیصلوں کا اختیار نواز شریف کو تفویض کر دیا ہے، متحدہ اپوزیشن نے بھی اپنا اپنا کام کر کے اپنی تجاویز نواز شریف کے سامنے رکھ دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وہ ممبران جو ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا چاہتے ہیں وہ بھی فیصلے کے منتظر ہیں۔ اتحادی ہیں تو کسی اور کے لیکن وہ بھی نواز شریف کے فیصلے کے منتظر ہیں، عدم اعتماد کب پیش ہونی ہے اس کی حکمت عملی کیا ہوگی اس کا فیصلہ بھی نواز شریف نے کرنا ہے اور اتحادی نواز شریف کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، میں پنڈی کے شیطان اور دوسرے لوگوں سے پوچھتاہوں وہ آج اپنی آنکھوں سے سب دیکھ لیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…