منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

تحریک انصاف میں تنظیمی اختلافات، عہدے داران کے استعفوں کی لائن لگ گئی

datetime 17  فروری‬‮  2022 |

کراچی (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف سندھ میں تنظیمی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، پی ٹی آئی سندھ کابینہ کی تشکیل کے اعلان کے ساتھ ہی استعفوں کی لائن بھی لگ گئی۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی کابینہ اور ضلعی عہدیداران کا نوٹفیکیشن جاری ہوا تھا، اس کے بعد متعدد پی ٹی آئی عہدے دار اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نائب صدر کے عہدے سے مستعفی ہوئے، علی جونیجو بھی نائب صدر کے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ میرپورخاص ڈویژن سے جنرل سیکریٹری کے عہدے سے اکبر علی پلی نے بھی استعفیٰ بھجوا دیا ہے، اکبر علی پلی کو گزشتہ روز عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔استعفوں کے متن میں لکھا گیا ہے کہ مصروفیت کے سبب عہدے کی ذمہ داری پوری نہیں کر پائیں گے، تاہم ایک کارکن کے طور پر خدمات کی انجام دہی جاری رکھیں گے۔ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ مستعفی ارکان کو سندھ کے صدر علی زیدی کی پالیسی سے اختلاف ہے، واضح رہے کہ حلیم عادل شیخ پی ٹی آئی سندھ کے صدر اور نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔گزشتہ روز منتخب کئے گئے نائب صدر علی جونیجو اور سینئر نائب صدر حلیم عادل شیخ مستعفی ہوئے ہیں۔حلیم عادل شیخ اور علی جونیجو نے ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دیا ہے۔علی جونیجو کا کہنا ہے کہ ذاتی وجوہات و مصروفیات کے باعث استعفیٰ دے رہا ہوں جبکہ حلیم عادل شیخ نے استعفے میں اپوزیشن لیڈر ہونے اور مصروفیت کا عذر پیش کیا۔علی جونیجو گورنر سندھ کے مشیر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں، انہوں نے استعفے میں بطور کارکن کام کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)نے سندھ میں صوبائی کابینہ اور ڈویژن کے عہدیداران کا اعلان کیا تھا۔مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر نے صوبائی کابینہ اور پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی نے ڈویژنل عہدیداران کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…