کابل(این این آئی)طالبان کے یورپی سرزمین پر مغربی ممالک کے ساتھ اپنے پہلے باقاعدہ مذاکراتی سلسلے کو افغانستان میں جنگ کے ماحول کی تبدیلی کے لیے مددگار قرار دیا جا رہا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے بتایا کہ اس مذاکراتی عمل سے افغانستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری شورش کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اتوار کے روز سے طالبان اور مغربی حکام کے درمیان ناورے کے دارالحکومت اوسلو میں مذاکرات ہو رہے ہیں، جن میں افغانستان میں انسانی حقوق اور ہیومینیٹیرین امداد کے علاوہ افغانستان میں تیزی سے بڑھتی غربت اور افلاس پر بات چیت ہو گی۔ یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ اس پیشرفت کو طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے مترادف خیال نہ کیا جائے۔
یورپی سرزمین پر طالبان کے ساتھ اولین باضابطہ مذاکرات
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
کوکین ڈیلر انمول پنکی کے سنسنی خیز انکشافات، شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے نام بتادیے
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
گرمیوں کی طویل چھٹیوں پر نجی سکولز کے اعتراضات، حکومت کا بڑا فیصلہ
-
بڑا کریک ڈاؤن ! 10غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیل کردیا گیا
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
فرانسیسی صدر میکرون کو اہلیہ نے تھپڑ کیوں مارا وجہ سامنے آگئی
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں
-
نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا
-
چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے؟
-
ڈرگ ڈیلر انمول پنکی کے معاملے پر مریم نواز کا ایکشن



















































