جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

نیپال اور بھارت تباہی کے دھانے پر۔برطانوی سائنسدان کے انکشاف نے کھلبلی مچادی

datetime 8  اگست‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)نیپال اور بھارت تباہی کے دھانے پر۔سائنسدانوں کے اعلان نے کھلبلی مچادی،سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ مغربی نیپال اور شمالی بھارت میں مستقبل میں ایک بڑا زلزلہ آنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔نئے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ رواں برس اپریل میں نیپال میں آنے والے زلزلے سے وہ تمام توانائی خارج نہیں ہوئی جو کہ زیرِ زمین جمع ہے بلکہ یہ دباو¿ مغرب کی جانب منتقل ہوگیا ہے۔یہ تحقیق جیو سائنس اور سائنس نامی رسالوں میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اس دریافت کے بعد اب مذکورہ علاقے کی زیادہ نگرانی کی ضرورت ہے۔کیمبرج یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڑاں فلیپ ایوویک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ وہ علاقہ ہے جو توجہ کا طالب ہے۔ اگر آج کوئی زلزلہ آتا ہے تو وہ صرف مغربی نیپال ہی نہیں شمالی بھارت کےگنجان آباد علاقوں کی وجہ سے تباہ کن ہو گا۔‘نیپال میں رواں برس س7.8 شدت کے زلزلے سے نو ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی اور بےگھر ہوئے تھے۔یہ زلزلہ اس علاقے میں آیا جہاں انڈین ٹیکٹونک پلیٹ شمال کی جانب یوریشیئن پلیٹ میں دھنستی ہے اور اس کی وجہ سے یہاں زمین سالانہ دو سنٹی میٹر کی شرح سے حرکت کر رہی ہے۔ان دونوں پلیٹوں کا سرحدی علاقہ آپس میں دھنسنے کی وجہ سے بند ہو چکا ہے اور یہاں جمع ہونے والی توانائی کسی بڑے زلزلے کے نتیجے میں ہی خارج ہو سکتی ہے۔25 اپریل کو آنے والے زلزلے سے اس توانائی کا جزوی اخراج ہی ہوا ہے۔یہ زلزلہ اس علاقے میں آیا جہاں انڈین ٹیکٹونک پلیٹ شمال کی جانب یوریشیئن پلیٹ میں دھنستی ہے،پروفیسر ایوویک کا کہنا ہے کہ ’اگر زلزلے سے اس بند حصے میں دراڑیں پڑتیں جو ہمالیہ کے دامن تک جاتیں تو نیپال کے زلزلے کی شدت کہیں زیادہ ہوتی۔‘تاہم ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ایسا نہیں ہوا اس لیے کچھ دباو¿ مغرب کی جانب منتقل ہو گیا ہے اور یہ علاقہ نیپال میں پوکھرا کے مغرب سے بھارت میں دہلی کے شمالی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’فی الوقت تو ہم مغربی نیپال کے بارے میں زیادہ فکرمند ہیں۔‘ماہرین کے مطابق اس علاقے میں ایک بڑا زلزلہ آنے کا وقت آ چکا ہے۔ یہاں 1505 میں بڑا زلزلہ آیا تھا جس کی شدت 8.5 سے زیادہ تھی۔محققین کا کہنا ہے کہ اب جبکہ دباو¿ بھی اسی علاقے کی جانب منتقل ہوا ہے تو وہ پانچ سو برس سے جمع ہونے والی توانائی میں شامل ہو کر تباہی لا سکتا ہے۔ان کے مطابق اگرچہ زلزلے کی آمد کا درست اندازہ لگانا ناممکن ہے لیکن اب مغربی نیپال کے مذکورہ علاقے کی مسلسل نگرانی کی جانی چاہیے۔زلزلے سے اس بند حصے میں دراڑیں پڑتیں جو ہمالیہ کے دامن تک جاتیں تو نیپال کے زلزلے کی شدت کہیں زیادہ ہوتیپروفیسر ایوویک کے مطابق ’ہم لوگوں کو خوفزدہ نہیں کرنا چاہتے لیکن ضروری ہے کہ انھیں خبر ہو کہ وہ اس علاقے میں مقیم ہیں جہاں توانائی کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’نیپال میں بہت سے خاندان اپنے مکانات تعمیر کر رہے ہیں جن میں زلزلے کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ ضروری ہے کہ ایسے چھوٹے مکانات بنائے جائیں جو بڑے زلزلوں کو سہار سکیں۔‘اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے اوپن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ رودری کا کہنا ہے کہ ’نگرانی کا طریقہ اب اتنا جدید ہو چکا ہے جہاں ہم ایک بڑے زلزلے کے آنے سے چند منٹ قبل یہ جان سکتے ہیں کہ کیسے پہلے سے بند فلاٹ لائن کھل گئی۔‘پروفیسر ایوویک کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے نیپال میں کٹھمنڈو کے قریب 7.8 شدت کے زلزلے کا سنا تو میں تین سے چار لاکھ افراد کی ہلاکت کی خبر سننے کے لیے تیار تھا۔ تاہم اس زلزلے نے اتنی توانائی خارج نہیں کی جو کٹھمنڈو کی چھوٹی عمارتوں کے لیے تباہ کن ہوتی۔‘



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…