جمعہ‬‮ ، 15 مئی‬‮‬‮ 2026 

کووڈ کو شکست دینے کے ایک سال بعد بھی دل کو نقصان پہنچنے کا انکشاف

datetime 10  جنوری‬‮  2022 |

برسلز(این این آئی)کووڈ کی طویل المعیاد علامات یا لانگ کووڈ سے متاثر افراد کے دل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ اس صورت میں بڑھ جاتا ہے جب جسمانی سرگرمیوں کے باعث ان کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا بیماری کے ایک سال بعد بھی ہوتا ہو۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات بیلجیئم میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔یونیورسٹی ہاسپٹل برسلز کی تحقیق میں میڈیکل اسکینز سے

دریافت ہوا کہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے ایک سال بعد بھی سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے کووڈ مریضوں میں دل کی شریانوں سے جڑے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، چاہے ان میں اس کی کوئی تاریخ نہ بھی ہو۔تحقیق میں تصدیق کی گئی کہ لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والے افراد کے دل کو نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔محققین نے بتایا کہ نتائج سے یہ وضاحت کرنے میں مدد ملتی ہے کہ لانگ کووڈ کے کچھ مریضوں کو ایک سال بعد بھی سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کیوں ہوتا ہے اور کیوں دل کی کارکردگی یا افعال میں کمی آتی ہے۔اس تحقیق میں محققین نے کووڈ کے 66 ایسے مریضوں کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی جن میں دل یا پھیپھڑوں کے امراض کی تاریخ نہیں ہوئی تھی۔یہ سب مریض مارچ اور اپریل 2020 میں کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہے تھے۔ان مریضوں کے پھیپھڑوں کے افعال اور طویل المعیاد علامات کا جائزہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے ایک سال بعد ایک خصوصی ایکسرے آلے کے زریعے لیا گیا۔ان مریضوں کی دل کی صحت کی جانچ پڑتال کے لیے الٹرا سانڈز اور ایک زیادہ جدید امیجنگ تیکنیک کی مدد لی گئی۔ایسے مریض جن کو بیماری کے ایک سال بعد بھی سانس کے مسائل کا سامنا تھا۔ ان کے اسکینز مین دل کو پہنچنے والے نقصان کا علم ہوا۔محققین نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ کووڈ کے ایک تہائی سے زیادہ ایسے مریض جن میں دل یا پھیپھڑوں کے امراض کی تاریخ نہیں تھی، ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے ایک سال بعد بھی سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کررہے تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کارڈک الٹرا سانڈ میں ان افراد کے دل کے افعال گہرائی میں جاکر جائزہ لینے پر ہم نے نمایاں نقصان کا مشاہدہ کیا، جس سے سانس کے مسائل کے تسلسل کی ممکنہ وضاحت ہوتی ہے۔ایک تخمینے کے مطابق کووڈ کو شکست دینے والے 10 سے 30 فیصد مریضوں کو بیماری کے 6 ماہ بعد بھی لانگ کووڈ کی کم از کم ایک علامت کا سامنا ہوتا ہے۔محققین کے مطابق نئی امیجنگ تیکنیکس سے لانگ کووڈ کے مریضوں میں دل کے افعال میں خرابیوں کی جلد شناخت کرنے مین مدد مل سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کووڈ کی مختلف اقسام اور ویکسینیشن کے اثرات پر مزید تحقیق سے ہمارے نتائج کو جانچنے کی ضرورت ہے تاکہ مریضوں کو زیادہ بہتر علاج فراہم کیا جاسکے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…