ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں پندرہ سال کی ریکارڈ توڑ برف باری کے امکانات ٗ بارشوں کا سلسلہ کس تاریخ تک جاری رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا

datetime 8  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی)محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کےپہاڑی علاقوں میں دس سے پندرہ سال کی ریکارڈ توڑ برف باری کے امکانات کے ساتھ ملک بھر میں بارشوں اور ژالہ باری کا سلسلہ دس تاریخ تک رہنے کا امکان ہے۔دوسری جانب مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور 16 سے

19 افراد کی گاڑیوں میں اموات کے بعد سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔مری کی صورت حال کو مانیٹر کرنے کے لیے قائم کنٹرول روم کے ذرائع کے مطابق شہر میں 1 لاکھ سے زائد گاڑیاں داخل ہوئیں اور لوگ گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی کرکے چلے گئے۔کنٹرول روم ذرائع کے مطابق مری میں رات سے بجلی کی فراہمی بند ہے، گاڑیاں سڑکوں پر ہونےکی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، ہیوی مشینری سے برف کی کٹائی کا عمل جاری ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ مری میں گاڑیوں میں لوگ چھوٹے بچوں کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں اور گاڑیوں میں لوگوں کے پاس کھانے پینے کے لیے سامان بھی نہیں ہے۔وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رات سے ایک ہزار گاڑیاں مری میں پھنسی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مری میں گاڑیوں میں 16 سے 19 افراد کی گاڑیوں میں اموات ہوئی ہیں۔شیخ رشید کا کہنا ہے کہ مری میں ایف سی اور رینجرز کو بھی امدادی کارروائیوں کے لیے طلب

کر لیا گیا ہے، اس کے علاوہ پاک فوج کے دستے بھی طلب کر لیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں، صرف کمبل، ادویات اور کھانے پینے کا سامان لے جانے والوں کو جانے کی اجازت ہو گی، پیدل جانے والوں کے لیے بھی راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔علاوہ ازیں سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد

فاروق حیدر خان نے مری میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ حکومتی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کی وجہ سے یہ سانحہ ہوا ،سب کو پتہ تھا حکومتی ذمہ داران اعلان کررہے تھے ایک لاکھ گاڑیاں مری پہنچ گئیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی ذمہ داران نے عوام کو سہولیات اور ایمرجنسی مدد کے لیے کوئی کام نہیں کیا ،لوگ سڑکوں پر مررہے تھے انتظامیہ اور ریسیکو سروسز کہاں تھیں ؟ ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…