ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے قومی پرائز بانڈز کیش کروانے کی مدت میں توسیع

datetime 21  دسمبر‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی)وفاقی حکومت کی جانب سے پرائز بانڈز کیش کروانے کی مدت میں توسیع کردی گئی ۔پرائز بانڈز کیش کروانے کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جس کے مطابق ساڑھے 7 ہزار، 15 ہزار، 25 ہزار اور 40 ہزار روپے کے پرائز بانڈز کیش کرانے کی

آخری تاریخ 31 مارچ 2022 مقرر کی گئی ہے۔ پرائز بانڈز کو سیونگ سرٹیفکیٹس اور پریمیم پرائز بانڈز سے تبدیل کیا جا سکتا ہے یا فیس ویلیو پر کیش بھی کیا جا سکتا ہے۔ بانڈز کو ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن کے 16 فیلڈ دفاتر اور 6 مجاز کمرشل بینکوں یعنی نیشنل بینک آف پاکستان، حبیب بینک لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، ایم سی بی بینک لمیٹڈ، الائیڈ بینک لمیٹڈ اور بینک الفلاح لمیٹڈ کی شاخوں میں پریمیم پرائز بانڈز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل بیرون ملک مقیم پاکستانی جن کے پاس پرائز بانڈز موجود ہیں کی جانب سے پریمیم بانڈز کے بدلے پرائز بانڈز کے تبادلے کے لیے مزید وقت مانگا تھا کیوں کہ ان کے مطابق کرونا کے پیش نظر سفری پابندیوں کی وجہ سے ان کے لیے پاکستان کا سفر کرنا ممکن نہیں ہے۔ پرائز بانڈز کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات کے پیش نظر کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…