جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

ڈنمارک میں مقیم صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف ماہر اقبالیات غلام صابر انتقال کرگئے

datetime 2  دسمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (این این آئی)ڈنمارک میں عرصہ دراز سے مقیم ممتا زعلمی،ادبی اور مفکر شخصیت غلام صابر انتقال کرگئے ہیں۔مرحوم یورپ میں ماہر اقبالیات سمجھے جاتے تھے۔کچھ عرصہ قبل ان کی خدمات کے پیش ان کو صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

آپ نے فکر اقبال کو یورپ میں متعارف کروانے کے لیے اقبال اکیڈمی اسکینڈے نیویا کی بنیاد رکھی۔وہ اقبال کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کے لیے فلسفہ اقبال پر مسلسل کام کرتے رہے اور آپ نے سات کتابیں تحریر کیں۔مرحوم کی کتاب اقبال اور ڈینش فلاسفر ہنس سارن کریکگارڈ کا تقابلی تجزیہ بہت مشہور ہوئی۔اس کتاب کے دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمے بھی شائع ہوئے۔اس کے علاوہ اقبال اور فزکس،موت کے بعد زندگی (انگریزی) میں شائع ہوئیں۔دنیا میں اقبالیات کے شوقین آپ کے پاس دور دور سے آتے اور آپ کا گھر یورپ میں عملی طور پر مرکز اقبال بن چکا تھا۔مرحوم نے اقبالیات کے حوالے سے ایک کتب خانہ قائم کیا ہوا تھا۔ان کی لکھی ہوئی کتب یورپ کی بہت سی لائبریریز میں دستیاب ہیں۔مرحوم کے پسماندگان میں تین بیٹے طارق صابر،خالد صابر اور عاصم صابر شامل ہیں۔اس کے علاوہ چار بیٹیاں ناہید،انجم،سیما اور روبینہ شامل ہیں۔ان کے دامادوں میں کامل محمد (ڈنمارک) اور عابد علی عابد شامل ہیں۔عابد علی عابد تنظیم برائے عالمی امن کے عالمی صدر بھی ہیں جبکہ ان کی بیٹی ڈنمارک میں مشہور سیاسی رہنما صباح عابد ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…