اسلام آباد (این این آئی)ممتاز مذہبی اسکالر مفتی اقبال نقشبندی نے کہا ہے کہ مہنگائی و بے روزگاری سے خودکشیاں ریاستِ مدینہ کے دعوے داروں کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی خود کشی کی شرح قابلِ تشویش ہے۔
مفتی اقبال نقشبندی نے کہاکہ کفر اور شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ خودکشی کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ قوم اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہو ئے صبر کا دامن تھامے۔واضح رہے کہ بے روزگاری، قرض اور غربت کے ہاتھوں حال ہی میں کراچی میں 2 افراد کے خودکشی کرنے کے علیحدہ علیحدہ واقعات رونما ہوئے ہیں،کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 16 میں محمد فہیم نامی شخص نے پھندا لگا کر خودکشی کر لی تھی جو 6 بچوں کا باپ تھا،فہیم نے خودکشی سے قبل بیوی کو نیند کی گولیاں دے کر سلا دیا تھا، واقعے کے وقت اس کی بیٹیاں ٹیوشن پڑھنے گئی ہوئی تھیں،متوفی فہیم بے روزگار ہونے کے بعد 2 سال سے رکشہ چلا رہا تھا اور مالی پریشانیوں کا شکار تھا، اس کی 5 بیٹیاں اور 1 بیٹا ہے، پیسے نہ ہونے کے باعث فہیم نے 3 ماہ سے فلیٹ کا کرایہ نہیں دیا تھا،متوفی پر بینک کا 1 لاکھ روپے سے زائد کا قرض بھی تھا جس کے سبب محمد فہیم اکثر پریشان رہتا تھا،اس واقعے کے چند روز بعد ہی کراچی میں راشد منہاس روڈ پر واقع شاپنگ مال میں زہیر نامی نوجوان نے بے روزگاری اور غربت سے تنگ آ کر تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی۔