جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پاکستان ملاعمر کی ہلاکت پرپالیسی بیان دے ،چیرمین سینٹ

datetime 4  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے ملتوی ہونے اور ملاعمر کی ہلاکت کے حوالے سے ہاؤس کو بریفنگ دے۔سینیٹ کے چیئرمین نے قائد ایوان راجا ظفر الحق کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پر پالیسی بیان کے لیے منگل یا بدھ کے روز وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کی سینیٹ میں موجودگی کو یقینی بنائے۔انھوں نے ظفر الحق سے کہا کہ ’وزیراعظم کے مشیر کو کل طلب کیا جائے تاکہ ہاؤس کو مذاکرات اور اس پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا جائے۔‘انھوں نے ظفر الحق کو سینٹر فرحت اللہ بابر کے ’عوامی اہمیت کے معاملے‘ پر سوال اٹھانے پر یہ ہدایات کیں، جس میں کہا گیا تھا کہ ملاعمر کی ہلاکت کے حوالے سے پاکستانی وزارت خارجہ کی خاموشی سے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے خلاف شکوک وشبہات پیدا ہورہے ہیں۔سینٹر بابر کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملاعمر 2013ء میں ہلاک ہوئے اور اس بارے میں پاکستانی حکومت نے ان کو بتایا ہے جبکہ ’ہمارے ادارے اس بات کی تردید نہیں کررہے‘۔ان نے کہا تھا کہ ’ملاعمر کی ہلاکت کے حوالے سے سرکاری سطح پر ایک بیان جاری ہونا چاہیے۔ کیا پاکستانی حکومت اس حوالے سے آگاہ تھی؟ اور کیا ملا عمر کی ہلاکت کے حوالے سے پاکستان نے افغان حکومت کو اطلاع دی۔‘انھوں نے کہا کہ اس سے قبل 2 مئی 2011ء کو پاکستانی علاقے ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے خفیہ آپریشن کے دوران القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن ہلاک ہوئے تھے اور اب ملا عمر کی ہلاکت پر پاکستان کو ایک بار پھر عالمی طور تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینٹر بابر نے مزید کہا کہ ملا عمر دو سال قبل ہلاک ہوئے، تو عید الفطر پر ان کی جگہ کس نے بیان جاری کیا تھا جس میں افغان امن مذاکرات کو خوش آمدید کہا گیا تھا، کون ملاعمر کی روپ میں یہ سب کررہا تھا؟‘
یاد رہے کہ ملا عمر کی ہلاکت کے بعد افغان حکوت اور طالبان کے درمیان گذشتہ ہفتے مری میں ہونے والے مذاکرات ملتوی ہوگئے تھے، اس مذاکراتی ٹیم میں طالبان اور افغان حکومت کی نمائندگی کرنے والے دو افراد، ایک پاکستانی جبکہ امریکا اور چین سے ایک ایک فرد شامل ہے۔
(بشکریہ ۔ڈان نیوز)



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…