جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی کی ایک عدالت کا خاتون کو نیا چہرہ فراہم کرنے کا حکم

datetime 5  دسمبر‬‮  2014 |

انقرہ۔۔۔۔ترکی کی ایک عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ گھریلو تشدد سے متاثرہ ایک خاتون کو نئی شناخت اختیار کرنے کے لیے رقم مہیا کرے۔عدالت کے مطابق اس رقم میں متاثرہ خاتون کی پلاسٹک سرجری پر خرچ آنے والے اخراجات بھی شامل کیے جائیں۔روزنامہ ’صباح‘ کی ویب سائٹ کے مطابق ترکی کے مغربی شہر ازمیر کی ایک عدالت نے اپنے تاریخی فیصلے میں کہا کہ 20 سالہ خاتون کو اس کے سابق بوائے فرینڈ کی جانب سے کی جانے والی بدسلوکی سے بچنے کے لیے نئی شاخت بھی مہیا کی جائے۔ویب سائٹ کے مطابق متاثرہ خاتون کو پہلے ہی ’مسلسل تشدد، دھمکیوں اور دباؤ کے شکار ہونے کے بعد اس کے بوائے فرینڈ کے خلاف حکمِ امتناہی دیا گیا تھا،‘ تاہم اس کے خلاف تشدد جاری رہا۔
خیال رہے کہ ترکی میں سنہ 2012 میں ایک قانون منظور کیا گیا تھا جس کا مقصد خواتین کے خلاف تشدد کو روکنا تھا۔اس قانون کے تحت ججوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی شخص کی زندگی کو لاحق خطرات سے بچانے کے لیے اس کی شناخت کو مکمل طور پر بدلنے کے احکامات جاری کر سکتے ہیں۔تاہم ترک پریس کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت کے حکم میں پلاسٹک سرجری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔روزنامہ ’حریت‘ نے متاثرہ خاتون کے وکیل سے حوالے سے بتایا کہ ملک میں مردوں کی جانب سے عورتوں پر کیے جانے والے مظالم کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاہم ایسا نہیں ہو رہا۔
متاثرہ خاتون کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی موکلہ عدالتی فیصلے سے خوش ہیں تاہم وہ اس بات پر پریشان ہیں کہ انھیں اپنی جسمانی شاخت بدلنا پڑے گی۔عدالتی فیصلے کے بعد متاثرہ خاتون کو نیا پتہ فراہم کرنے کے علاوہ ان کی یونیورسٹی، جہاں وہ زیرِ تعلیم تھیں، بھی بدلی جائے گی اور اس کے تمام اخراجات ریاست برداشت کرے گی۔ترکی میں خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا تھا کہ ملک میں خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ جاری ہے۔ترکی میں آزاد نیوز ایجنسی ’بیانیٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 میں مردوں نے دو سو سے زائد خواتین کو قتل کیا۔ان میں سے 66 فیصد سے زائد خواتین کو ان کے شوہروں یا سابق شوہروں نے ہلاک کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…