اسلام آباد(نیوزڈیسک) ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین تقریباً اپنی سیاسی دوڑ کے اختتام تک پہنچ چکے ہیں کیونکہ پاکستان کی ریاست نے کھل کر اعلان کردیا ہے کہ وہ ریاست کے خلاف اعلانِ جنگ کر رہے ہیں، جس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ صورتحال پاکستان میں ایم کیو ایم کے رہنمائوں اور اس کے حامیوں کیلئے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے اتوار کو دیئے جانے والے بیان، جس میں انہوں نے وضاحت کی کہ کس طرح الطاف حسین نے کئی مرتبہ حدود پار کیں جن سے اجتناب کرنا چاہئے تھا، اور اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ ایم کیوا یم، جس طرح یہ پہلے کام کرتی تھی، کو اس طرح کام کرنے نہیں دیا جائے گا، چاہے اس پر باضابطہ طور پر پابندی عائد کی جاتی ہے یا نہیں۔ لندن میں الطاف حسین کے قریبی حلقے اور ماہرینِ قانون اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ شدید مایوسی اور زبردست ڈپریشن کا شکار ہیں اور بے بس محسوس کر رہے ہیں اور وہ کئی ایسے طوفانوں میں پھنس چکے ہیں جو انہوں نے اپنی ہی پارٹی اور اپنی سیاست کیلئے پیدا کیے تھے۔ معروف سیاسی تجزیہ کارشاہین صہبائی کے ایک تجزیہ کے مطابق کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ جس طرح آصف علی زرداری سیکورٹی ایجنسیوں کو تباہ کرنے کی دھمکی دے کر خود اپنے جال میں پھنس گئے، بالکل اسی طرح الطاف حسین نے بھی اپنی پارٹی کو آہستہ آہستہ اسی نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں ان کا موقف اور ان کے الفاظ ناقابل دفاع بن چکے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ آصف زرداری نے فوری طور پر فیصلہ کیا کہ وہ اپنے اہل خانہ اور پارٹی کے اہم افراد کے ساتھ پاکستان سے چلے جائیں لیکن الطاف حسین پہلے ہی ملک سے باہر ہیں۔ تاہم، پیپلز پارٹی پہلے ہی اس تاثر کو مسترد کر چکی ہے اور کہتی ہے کہ آصف زرداری نے ایجنسیوں کو دھمکیاں دیں اور نہ ہی وہ اپنے خطاب کی وجہ سے ملک سے باہر گئے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری معمول کے مطابق ملک سے باہر ہیں۔ لیکن، مبصرین، کچھ ماہرینِ قانون اور سیاسی ماہرین کو تشویش ہے کہ اپنی پارٹی کے خلاف ریاست اور فوج کو اشتعال دلا کر الطاف حسین نے یہ کوشش کی کہ کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن در اصل ایک پارٹی کے خلاف ہے اور یہ صورتحال ریاست پاکستان، جس کے متعلق ان کا دعویٰ ہے کہ اس پر پنجاب کا غلبہ ہے، کی جانب سے ان کی نسل کشی کا درست معاملہ بناتی ہے۔ ان ماہرین کی رائے ہے کہ یہ تاثر کہ کراچی آپریشن کا ہدف زیادہ تر ایم کیو ایم تھا، اب زور پکڑ رہا ہے کیونکہ کئی لوگ گرفتار ہوئے ہیں، لیکن کسی دوسری سیاسی جماعت کے کسی بھی نمایاں رہنما کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ سِوِک سینٹر اور کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پر چھاپوں کی وجہ سے سندھ حکومت کی بوکھلاہٹ اور ساتھ میں ایف آئی اے اور وفاقی حکومت کو دھمکیاں دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے حلقوں میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ چھاپے اور شواہد کیا کچھ ظاہر کر سکتے ہیں۔ لیکن سیکورٹی ایجنسیوں اور رینجرز نے سندھ حکومت کے الز ا ما ت کا جواب دیا ہے، جس سے سندھ میں صورتحال ڈیڈ لاک کا شکار ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ تاثر کہ کراچی آپریشن ’’غیر جانبدار ہے‘‘ کے ضمن میں کسی دوسری پارٹی کے خلاف کوئی ٹھوس اور واضح کارروائی نہیں کی گئی اور صرف ایم کیو ایم کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بظاہر الطاف حسین نے پاکستان میں اپنی تمام کشتیاں جلا دی ہیں لیکن اس سے پاکستان میں موجود ان کی جماعت ایک بڑی دلدل میں پھنس چکی ہے۔ مقامی رہنما الطاف حسین کے فوج کے خلاف بیانات، بھارت سے مدد کے مطالبات، اقوام متحدہ اور نیٹو سے مداخلت کی اپیلوں کا دفاع نہیں کر پاتے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو انہیں فوراً گرفتار کر لیا جائے گا کیونکہ وہ پاکستان میں ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں انڈر گرائونڈ ہونا پڑے گا، خاموش ہونا پڑے گا یا پھر پارٹی چھوڑنا پڑے گی۔ ایم کیو ایم کیلئے مشکل وقت ابھی باقی ہے لیکن فوج اور رینجرز کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ فوراً اس تاثر کو دور کریں کہ کارروائی صرف ایم کیو ایم کے خلاف نہیں ہو رہی۔ دوسروں کو بھی پکڑنا ہوگا اور ایک مرتبہ ایسا ہو گیا تو ایم کیوا یم کا مقدمہ خود بہ خود کمزور پڑ جائےگا۔
الطاف حسین کاپاکستان مخالف بیان،ایم کیوایم دلدل میں پھنس گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیفٹننٹ کرنل کی اہلیہ کا سربراہ شعبہ کے ساتھ ایشو چل رہا تھا، کیس ثابت ہونے پر معطل کردیا گیا اسی با...
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کےلئے پیر تا جمعہ نئے اوقات کار مقرر
-
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
ہونڈا CD 70 ایکسچینج آفر، پرانی بائیک دیں اور نئی لے جائیں
-
حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات
-
ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں آج پھر بڑااضافہ
-
ایپل کی جانب سے آئی فون 18 سیریز کی قیمتوں میں کتنا اضافہ کیا جا رہا ہے؟
-
ایکنک نے لاہور ، بہاولنگر موٹروے کی منظوری دیدی
-
پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا 58 سالہ امریکی خاتون پاکستان پہنچ گئی، اسلام قبول کر کے 34 سالہ عا...
-
ہونڈا کی ایکسچینج سہولت، پرانی سی ڈی 70 دے کر نئی موٹر سائیکل حاصل کرنے کا موقع
-
حنا جاوید قتل کیس،قاتل شوہر کو جج نہ کرنے کی فرضی مثال، ملزم کا پرانا لیکچر وائرل
-
کھانا بنانے کا تنازع، بیوی کے فرائنگ پین سے حملے میں شوہر جاں بحق
-
بارشوں کا نیا اسپیل 27 اگست سے آنےکو تیار ، محکمہ موسمیات کی پیشگوئی آگئی
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی



















































