اسلام آباد (نیوزڈیسک) قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو اسمبلی سے باہر کرنے کیلئے پیش کی گئی قرارداد ارکان اسمبلی کے غیر حاضر ہونے کی وجہ سے ناکام ہوجاتی ہے تو اس صورتحال کو ساری پارٹیاں اپنی جیت تصور کریں گی، 342 کے ایوان میں قرارداد کی کامیابی کیلئے متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 37 ووٹ ہیں، ایک ایسے وقت میں جب انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن میں کیس مسترد ہونے کے بعد تحریک انصاف شدید دبائو میں ہے،معروف سیاسی تجزیہ نگارطارق بٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کے مسترد ہونے پر تحریک انصاف خوشی کے شادیانے بجائے گی۔ کمیشن میں تحریک انصاف نے اپنا پورا کیس دھاندلی کی تحقیقات کے حوالے سے کھڑا کیا تھا جو بالآخر پتوں کی طرح بکھر گیا، جس نے تحریک انصاف کو منتشر کرکے رکھ دیا۔ یہ بالکل واضح ہے کہ اب عمران خان سمیت تحریک انصاف کے قانون ساز قومی اسمبلی میں اپنی نشستیں برقرار رکھنے کے خواہش کریں گے، باوجود اس کے مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے انہیں طعنے دیئے جائیں گے۔ تحریک انصاف کے خلاف پیش کی گئی قرارداد پر واضح موقف اختیار کیا گیا تو یقیناً اس پر ووٹنگ ہوگی، اگر یہ مرحلہ آگیا تو پاکستان مسلم لیگ ن بالخصوص وزیراعظم میاں نواز شریف تحریک انصاف کی غیر معمولی تنقید کے باوجود یہ زور دیں گے کہ عمران خان کی ٹیم کو اسمبلی میں رکھا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دھرنے کے دوران پی ٹی آئی نے حکومت اور دوسری سیاسی جماعتوں کو ایک عذاب میںمبتلا کئے رکھا۔ یقیناً قرارداد کی مخالفت کرکے ن لیگ غیر ضروری سیاسی عدم استحکام پیدا نہیں ہونے دے گی جو تحریک انصاف کی اسمبلی سے بے دخلی کی صورت میں پیدا ہوگا۔ تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے باہر کرکے کے تحریک انصاف کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنے آپ میں پھر جان پیدا کرے۔ وزیراعظم نواز شریف خود تحریک انصاف کے حوالے سے کیس میں قائدانہ کردار ادا کریں گے، تاہم ان کی اپنی پارٹی کے بعض عناصر تحریک انصاف کو سبق سکھانے پر اصرار کریں گے۔ قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے ن لیگ یہ دعویٰ کرسکتی ہے کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد اس نے جو کچھ کیا اور جو اب کر رہی ہے وہ برداشت اور معاف کرنے کی پالیسی ہے جس کا اعادہ وزیراعظم نے کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں کیا تھا۔ نواز شریف اور ان کی ٹیم قرارداد کے حوالے سے ایم کیو ایم اور جے یو آئی کے موقف میں تبدیلی کیلئے ان کی قیادت سے ایک سے زائد مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ تحریک انصاف کے ایک حلقے کو شبہ ہے کہ حکمران جماعت تحریک انصاف کو تنگ کرنے کیلئے معاملے کو طول دے رہی ہے حکومت قرارداد پر ووٹنگ سے بچنے کیلئے کوشاں ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی جو قرارداد کو تواتر کے ساتھ مسترد کرتی آرہی ہے بھی موجودہ صورتحال سے لطف اندوز ہوگی، اگرچہ پیپلز پارٹی کو بھی پی ٹی آئی کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا وہ بھی یہ نہیں چاہے گی کہ تحریک انصاف کے ارکان کو اسمبلی سے باہر پھینک کر سزا دی جائے۔ ایم کیو ایم اور جے یو آئی (ف) دو ایسی جماعتیں ہیں جو تحریک انصاف کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کے حوالے سے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ چاہے انہیں شکست ہی ہو وہ اسمبلی میں اس آئینی معاملے پر ووٹنگ کرا کر ہی رہیں گی۔ یہ دونوں کو عمران خان کی تقریروں سے برابر تکلیف پہنچی ہے اور وہ ہر قیمت پر بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف نے بعض اوقات جے یو آئی پر حملوں کا سلسلہ بند بھی کیا تاہم اس نے ایم کیو ایم کے ساتھ ہمیشہ سینگ اڑائے رکھا۔ اس وقت ایم کیو ایم کراچی آپریشن کی وجہ سے دبائو میں ہے جبکہ تحریک انصاف انکوائری کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد دبائو میں ہے۔جو یو آئی اور ایم کیو ایم کو یہ بھی معلوم ہے کہ ان کے کم ووٹوں کے باعث قرارداد کامیاب نہیں ہوسکتی تاہم وہ تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران اختیار کئے گئے غیر جمہوری عمل کو یاد کرکے اس کو ناک رگڑوانا چاہتے ہیں، تاہم اس کیلئے انہیں اسمبلی میں اپنے حمایتی نہیں ملے
نواز شریف عمران خان کی ٹیم کو اسمبلی میں رکھنے پر زور دینگے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لاہور: چلڈرن اسپتال کی پارکنگ سے ڈاکٹر کی لاش ملنے کا معمہ حل، ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات
-
ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا اعلان
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری
-
این ڈی ایم اے کا ممکنہ شدید گرمی کے پیش نظر الرٹ جاری
-
لاہو رکے علاقے ڈیفنس میں 2 سوشل میڈیا سٹارز لڑکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ
-
راولپنڈی میں زیادتی کا شکار ہونے والی 15 سالہ طالبہ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ، پولیس نے ملزم کو گرفتار...
-
پانچ مرلہ کے گھر پر سنگل فیز میٹر لگانے پر پابندی عائد
-
750روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا اعلان
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
وزیراعلی نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری کر دیں
-
ہر بچے کا ’’ب فارم‘‘ اب ایک بار نہیں 3 بار بنے گا! نیا طریقہ کار متعارف
-
پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی کی کہانی خواجہ سعد رفیق منظرعام پر لے آئے



















































