ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

احساس کفالت سنٹر کاہنہ میں لوٹ مارکا سلسلہ جاری ،2خواتین سے 2ہزارروپے کی کٹوتی کی جانے لگی

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

خالق نگر(این این آئی)احساس کفالت پروگرام کاہنہ میں بنائے گئے سنٹر پر نان سٹاپ لوٹ مارکا سلسلہ جاری،غریب مستحق خواتین میں تقسیم ہونے والی رقم سے بلا خوف و خطر ایک ہزار سے دو ہزار روپے کٹوتی کی جانے لگی، کاہنہ میڈیا کلب (رجسٹرڈ) کے مطابق کاہنہ میں

احساس کفالت پروگرام کے تحت خواتین میں تقسیم ہونے والی امدادی رقم بارہ ہزار روپے میں سے بلا خوف وخطر ایک ہزار سے دو ہزار روپے سرعام احساس سنٹرکاہنہ کے ریٹیلرکاٹ رہے ہیں، لوٹ مار کا یہ سلسلہ کئی روزسے جاری ہے، کاہنہ احساس کفالت سنٹر پر موجود مستحق خواتین نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ سنٹر پر موجود ریٹیلروں کے رکھے ہوئے ایجنٹوں کو فی کس ایک سے دو ہزار روپے دیے بغیر امدادی رقم کا حصول ممکن نہیں ہے،کاہنہ سنٹرمیں موجود بااثر نوسرباز ریٹیلرز مستحق خواتین کی امداد پرکھلے عام ڈاکہ مار رہے ہیں، سنٹر پر تعینات مقامی پولیس کے اہلکاروں اور سیکورٹی اہلکاروں کو بھی کاہنہ سنٹر میں ہونے والی سرعام کرپشن کے بارے آگاہ کیا گیا مگر وہ بھی ٹس سے مس نہ ہوئے ،کاہنہ میڈیا کلب (رجسٹرڈٖ) کوسنٹرمیں موجودخواتین نے بتایا کہ انتظامیہ امداد کی صاف شفاف تقسیم میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کاہنہ احساس پروگرام سنٹر پر عورتوں میں تقسیم ہونے والی امداد کا بڑا حصہ افسران کی ملی بھگت سے خرد برد ہو رہا ہے مستحق خواتین کی امداد پر دیدہ دلیری سے ڈاکہ مارا جا رہا ہے کوئی سننے والا نہیں ہے،کئی روز سے مسلسل کاہنہ سنٹرپر ہونے والی کرپشن کے بارے میں عورتیں احتجاج کر رہی ہیں، لاکھوں روپے کی کرپشن ہونے کے باوجود اعلیٰ حکام کا حرکت میں نہ آنا سوالیہ نشان ہے،کاہنہ کی سیاسی،سماجی،صحافتی تنظیموں نے اعلیٰ حکام سے از سر نو تحقیقات کرکے کرپشن میں ملوث ریٹیلرز اور ان کی سرپرستی کرنے والے افسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…