منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف پرحملہ،کتنی حقیقت کتنا فسانہ،مکمل تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 3  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) مصدقہ ذرائع کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مری سے اسلام آباد میں داخل ہو رہے تھے ایک نامعلوم گاڑی قافلے کی دیگر گاڑیوں سے گزرتی ہوئی وزیراعظم کی گاڑی کے نزدیک پہنچ گئی اور گاڑی ٹکرانے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اداروں نے اسے ناکام بنا دیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ گاڑی میں خاتون اول بیگم کلثوم نواز اور ان کی بیٹی بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ محفوظ رہے۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے گاڑی میں سوار شخص کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ترجمان وزیراعظم آصف کرمانی نے کہا ہے کہ حقائق سب کے سامنے لائے جائیںگے وزیراعظم اور ان کی فیملی خیریت سے ہیں۔نوازشریف پر حملے کی کوشش ،مزید تفصیلات سامنے آگئیں،سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کے مطابق کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مری سے اسلام آباد میں داخل ہو رہے تھے ایک نامعلوم گاڑی قافلے کی دیگر گاڑیوں سے گزرتی ہوئی وزیراعظم کی گاڑی کے نزدیک پہنچ گئی اور گاڑی ٹکرانے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اداروں نے اسے ناکام بنا دیا۔اس موقع پر وزیراعظم اور ان کے سکواڈ کی گاڑیاں آپس میں خطرناک حادثے سے بال بال بچیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ گاڑی میں خاتون اول بیگم کلثوم نواز اور ان کی بیٹی بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ محفوظ رہے۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے گاڑی میں سوار شخص کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ گاڑی کی رجسٹریشن بھی جعلی ہے ،گرفتار ہونے والے شخص کا نام حفیظ الرحمان بتایاجارہاہے، وزیر اعظم روٹ کے بغیر مری سے روانہ ہوئے ،وزیراعظم پر حملے کی تحقیقات کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے ۔وزیراعظم ہاﺅس کی جانب سے تردید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سفید رنگ کی گاڑی میں سوار سابق افسر جلدی میں قافلے کو کراس کرنا چاہتاتھا وزیراعظم کے قافلے میں داخل ہونے والا حملہ آور نہیں، حساس ادارے کا سابق آفیسر ہے، سابق افسر کو پوچھ گچھ کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی ہے، وزیراعظم کے قافلے پر حملے کی کوشش نہیں کی گئی،جبکہ وزارت داخلہ کے ترجمان کی جانب سے بھی تردید جاری کی گئی ہے کہ زیر حراست شخص کو رہاکردیاگیا ہے ،وزیراعظم پر حملے کی خبر سرکاری ٹی وی نے دی تھی ، ترجمان وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم پر حملے کی خبر درست نہیں ہے، ایک شخص غلطی سے داخل ہواتھا ، اس دوران اس کی گاڑی بند ہوگئی، زیر حراست شخص کو تحقیقات کے بعد رہا کردیاگیا ہے،۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…