جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

نوازشریف پرحملہ،کتنی حقیقت کتنا فسانہ،مکمل تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 3  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) مصدقہ ذرائع کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مری سے اسلام آباد میں داخل ہو رہے تھے ایک نامعلوم گاڑی قافلے کی دیگر گاڑیوں سے گزرتی ہوئی وزیراعظم کی گاڑی کے نزدیک پہنچ گئی اور گاڑی ٹکرانے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اداروں نے اسے ناکام بنا دیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ گاڑی میں خاتون اول بیگم کلثوم نواز اور ان کی بیٹی بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ محفوظ رہے۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے گاڑی میں سوار شخص کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ترجمان وزیراعظم آصف کرمانی نے کہا ہے کہ حقائق سب کے سامنے لائے جائیںگے وزیراعظم اور ان کی فیملی خیریت سے ہیں۔نوازشریف پر حملے کی کوشش ،مزید تفصیلات سامنے آگئیں،سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کے مطابق کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مری سے اسلام آباد میں داخل ہو رہے تھے ایک نامعلوم گاڑی قافلے کی دیگر گاڑیوں سے گزرتی ہوئی وزیراعظم کی گاڑی کے نزدیک پہنچ گئی اور گاڑی ٹکرانے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اداروں نے اسے ناکام بنا دیا۔اس موقع پر وزیراعظم اور ان کے سکواڈ کی گاڑیاں آپس میں خطرناک حادثے سے بال بال بچیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ گاڑی میں خاتون اول بیگم کلثوم نواز اور ان کی بیٹی بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ محفوظ رہے۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے گاڑی میں سوار شخص کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ گاڑی کی رجسٹریشن بھی جعلی ہے ،گرفتار ہونے والے شخص کا نام حفیظ الرحمان بتایاجارہاہے، وزیر اعظم روٹ کے بغیر مری سے روانہ ہوئے ،وزیراعظم پر حملے کی تحقیقات کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے ۔وزیراعظم ہاﺅس کی جانب سے تردید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سفید رنگ کی گاڑی میں سوار سابق افسر جلدی میں قافلے کو کراس کرنا چاہتاتھا وزیراعظم کے قافلے میں داخل ہونے والا حملہ آور نہیں، حساس ادارے کا سابق آفیسر ہے، سابق افسر کو پوچھ گچھ کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی ہے، وزیراعظم کے قافلے پر حملے کی کوشش نہیں کی گئی،جبکہ وزارت داخلہ کے ترجمان کی جانب سے بھی تردید جاری کی گئی ہے کہ زیر حراست شخص کو رہاکردیاگیا ہے ،وزیراعظم پر حملے کی خبر سرکاری ٹی وی نے دی تھی ، ترجمان وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم پر حملے کی خبر درست نہیں ہے، ایک شخص غلطی سے داخل ہواتھا ، اس دوران اس کی گاڑی بند ہوگئی، زیر حراست شخص کو تحقیقات کے بعد رہا کردیاگیا ہے،۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…