اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

سول ایوی ایشن کی کارکردگی گرچکی، ان کا کام نہیں ائیرپورٹ چلانا، چیف جسٹس

datetime 25  اکتوبر‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کیا مذاق کر رہے ہیں آپ لوگ؟، آپ سو سال پرانا نظام چلا رہے ہیں، آپ کی کارکردگی گر چکی، آپ کا کام نہیں ائیر پورٹ چلانا۔ پیرکوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سول ایوی ایشن اراضی کو

کمرشل استعمال کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس گلزار احمد نے سول ایوی ایشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ کی زمین پر تو شادی ہال چل رہے ہیں، کیا آپ کا کام شادیاں کرانا ہے، آپ کو زمین نہیں چاہئے تو لوگوں کو واپس کر دیں، کوئی کام تو کریں، زمین کا استعمال تو کریں، آپ پارک بناتے ہیں نہ اس کا درست استعمال کرتے ہیں، آپ کی زمین پر قبضے ہو رہے ہیں، کہاں ہیں ڈی جی سول ایوی ایشن؟۔نمائندہ سول ایوی ایشن نے عدالت کو بتایا کہ ڈی جی کابینہ اجلاس کے لیے اسلام آباد میں ہیں۔ عدالت نے برہم ہوتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم تو ملک سے باہر ہیں، ان کے بغیر کیا کابینہ کا اجلاس ہو سکتا ہے، کیا کہنا چاہتے ہیں، عدالت کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں؟، کیا مذاق کر رہے ہیں آپ لوگ؟، آپ سو سال پرانا نظام چلا رہے ہیں، ایک چھوٹے سے جزیرے پر سیکٹروں جہاز ہوتے ہیں، کیا دنیا کے ائیرپورٹ نہیں دیکھے آپ لوگوں نے؟، آپ نے سب ائیرلائنز کو بھگا دیا، کچھ سمجھ میں آرہا ہے آپ کو؟، آپ کا کام نہیں ائیر پورٹ چلانا۔جسٹس اعجازالحسن نے استفسار کیا کہ کیا شادی ہال سول ایوی ایشن کا کام ہوتا ہے؟۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سول ایوی ایشن کے کام کا اندازہ ہو چکا ہے، جہازوں کی مدت ختم ہو چکی۔ سول ایوی ایشن کے نمائندے نے عدالت کو کہا کہ کارکردگی بہتر ہو رہی ہے۔ سول ایوی ایشن کے وکیل نے کہا کہ نیو ائیر پورٹ کے لیے 209 ایکٹر اراضی درکار ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی کارکردگی بہتر نہیں گر چکی۔ عدالت نے ڈی جی سول ایوی ایشن کو طلب کرلیا، جب کہ سینئر ممبر بورڈ سے نیو ائیر پورٹ اراضی کی سروے رپورٹ بھی طلب کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…