اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

روسی ارب پتی کاخلائی مخلوق کی تلاش کیلئے ایک سو ملین ڈالر کا عطیہ

datetime 1  اگست‬‮  2015 |

ماسکو(نیوزڈیسک)کائنات میں خلائی مخلوق کی تلاش کے لیے ایک روسی ارب پتی نے ایک سو ملین ڈالر کا عطیہ فراہم کیا ہے۔ اس منصوبے میں دنیا کے مشہور ماہر طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ مشیر کی حیثیت سے شریک ہیں۔کیا ہم اس کائنات میں تنہا ہیں یا کوئی خلائی مخلوق بھی پائی جاتی ہے؟ انسان اس سوال کے جواب میں ایک عرصے سے سرگرداں ہے۔ اب اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے روسی ارب پتی یورج مِلنر نے ایک سو ملین ڈالر کی خطیر رقم عطیہ کی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعلان آج لندن میں کیا۔یہ روسی ارب پتی، جس وقت لندن میں اس نئے تحقیقی منصوبے کا اعلان کر رہے تھے، اس وقت ان کے ساتھ دنیا کے نامور سائنسدان بھی موجود تھے، ان میں اسٹیفن ہاکنگ بھی شامل ہیں۔ اس منصوبے کا نام بریک تھرو لِسن رکھا گیا ہے۔رقم عطیہ کرنے والے ارب پتی مِلنر ایک ٹیم منتخب کریں گے اور یہ ٹیم دس برس تک کائنات میں پیدا ہونے والی آوازوں کو سنیں گے۔ اس منصوبے کے تحت ریڈیو دوربینوں کے ذریعے کائنات میں گردش کرنےوالی آوازوں کو پکڑا جائے گا تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ آیا کوئی خلائی مخلوق بھی موجود ہے ؟سب سے پہلے مرحلے میں حاصل ہونے سگنلز کو سمجھنے کی بجائے یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ آیا یہ کسی ذہین مخلوق کے ہو سکتے ہیں ؟ ان دس برسوں میں سائنسدان مِلکی وے اور اس کے ارد گرد پائی جانے والی تقریبا ایک سو کہکشاں سے نکلنے والے ریڈیو سِگنلز کا جائزہ لیں گے۔سائنسدانوں کے مطابق خلائی مخلوق یا پھر ذہین مخلوق کی تلاش کے لیے یورج مِلنر کی طرف سے ملنے والی رقم اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔اس منصوبے میں مشیر ہی کی حیثیت سے شامل کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہر فلکیات پروفیسر ڈین ویرتھ ہائمر کا کہنا تھا کہ ابھی تک خلائی مخلوق کی تلاش کے لیے دنیا بھر میں سالانہ دو ارب ڈالر سے بھی کم رقم خرچ کی جاتی ہے۔انسان گزشتہ کئی دہائیوں سے کائنات میں کسی دوسری مخلوق کی موجودگی سے متعلق سگنلز تلاش کرنے میں مصروف ہے لیکن یہ کوششیں ابھی تک بیکار ثابت ہوئی ہیں۔اسی نوعیت کے ایک منصوبے کا آغاز 1960 میں فرینک ڈریک کی طرف سے کیا گیا تھا، جو بہت مشہور ہوا تھا۔روسی ارب پتی نے 2012 سے فزکس کے شعبے میں بریک تھرو پرائز کا بھی آغاز کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی طرف سے بائیو سائنس کے شعبے میں بھی ایک انعام دیا جاتا ہے۔ کسی بھی سائنسدان کو دیے جانے والے اس ایوارڈ کی مالیت تیس لاکھ امریکی ڈالر ہوتی ہے جبکہ نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدان کو محض بارہ لاکھ کی رقم عطا کی جاتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…