جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

عثمان بزدار کی جانب سے ملتان میں ایک ارب مالیت کا لگژری گھر تعمیر کرائے جانے کا انکشاف

datetime 14  اکتوبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (آن لائن)مسلم لیگ(ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے عثمان بزدار کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے پنجاب انفارمیشن کمشنر کو درخواست جمع کرادی۔عظمیٰ بخاری نے پنجاب انفارمیشن کمشنر کو 2013کے انفارمیشن ایکٹ کے تحت درخواست جمع کرائی۔معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تین سالوں میں وزیراعلیٰ پنجاب کے آفس اور گھرکیلئے

متعدد مرتبہ فرنیچر کی خریداری ہوئی۔متعدد مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب کے آفس اور گھر سیون اور ایٹ کی تزئین و آرائش بھی ہوئی۔وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے تین سالوں کے دوران کتنا فرنیچر اور کتنی مالیت کاخریداگیا؟۔وزیراعلیٰ پنجاب کی رہائشگاہ اور آفس کی تزئین و آرائش پر کتنا خرچہ آیا ہے؟۔یہ بجٹ کی کس مد میں تمام اخراجات کیے گئے ہیں؟بجٹ کی کتابوں میں وزیر اعلی ہاوس کے اخراجات کی تفصیلات نہیں دی جاتی۔کیا یہ حقیقت ہے کہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپاٹمنٹ نے انہیں اپنے محکمانہ اخراجات کے طور پر دیکھایا ہے؟ہماری اطلاعات کے مطابق یہی حقیت ہے۔تین سالوں میں وزیراعلیٰ آفس،سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپاٹمنٹ اور سیکرٹریٹ کے ویلفیئر ونگ کیلئے کتنی گاڑیاں خریدی گئی ۔ان گاڑیوں کی خریداری کیلئے جو ٹینڈرز جاری کیے گئے ان کی معلومات فراہم کی جائیں۔جو گاڑیاں خریدی گئی ان کے نام ،ماڈلز،قیمت اور خریداری کا وقت بتایا جائے،اور کاغذات شئیر کئیے جائیں ۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے حال ہی میں

ملتان میں ایک لگژری گھر تعمیر کروایا ہے۔اس گھر کی مالیت ایک ارب روپے ہے۔اس گھر کے اور اس پہ آنے والے اخراجات کے کاغذات فراہم کی جائیں۔جی او آر ون میں متعدد دفاتر کو کیمپ آفس اورگیسٹ ہائوس ڈکلیئر قراردیا گیا۔جن میں وزیراعلیٰ انیکسی بھی شامل ہے۔یہ تمام دفاتر وزیراعلیٰ پنجاب کے آفس کے زیر استعمال ہیں۔وزیراعلیٰ آفس کے زیر استعمال

تمام کیمپ آفس اور گیسٹ ہاؤسز کی تفصیلات فراہم کی جائیں،متعلقہ سرکاری کاغذات فراہم کیے جائیں ۔تین سالوں میں وزیراعلیٰ کی انیکسی کی مرمت اور تزئین و آرائش کے اخراجات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔حال ہی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے اثاثوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔اس تناظر میں وزیراعلیٰ اورانکی اہلیہ کے تمام اثاثوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں جو 2017 سے انکی زیر ملکیت ہیں ۔ان تمام تفصیلات کیلئے میں اور عطاء تارڑ 29ستمبر 2019کو خط لکھا تھا تاحال اس کا جواب موصول نہیں ہوا۔اگر مذکورہ معلومات جلدفراہم کردی جائیں تو ہم ممنون ہونگے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…