ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

جوڑے کو ہراساں کرنے کا کیس: عثمان مرزا سمیت 7 ملزمان پر فرد جرم عائد، استغاثہ سے شہادتیں طلب کرلیں

datetime 28  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے جوڑے، کو ہراساں کرنے کے کیس میں مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت 7 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔منگل کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔یاد رہے کہ مذکورہ کیس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو پر دائر کیا گیا تھا

جس میں 5 سے 6 افراد سیکٹر ای-11/2 کے ایک فلیٹ میں ایک 27 سالہ لڑکے اور 28 سالہ لڑکی کو قید کر کے ان کے ساتھ غیر اخلاقی حرکتیں کررہے تھے اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے تھے۔عدالت نے ملزم عثمان مرزا، شریک ملزمان حافظ عطاالرحمٰن، ادریس قیوم بٹ، ریحان، عمر بلال مروت، محب بنگش، فرحان شاہین پر فرد جرم عائد کی۔فرد جرم عائد ہونے کے بعد ملزمان کے خلاف باقاعدہ ٹرائل آغاز ہوگیا ہے، عدالت میں تمام ملزمان کو چارج شیٹ پیش کی گئی اور ساتھ ہی پڑھ کر بھی سنائی گئی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا جس پر عدالت نے استغاثہ سے شہادتیں طلب کرلیں۔عدالت نے پروسیکوشن کے گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے گواہوں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر طلب کر لیا اور مزید سماعت 12 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی۔مقدمے کے پولیس چالان کے مطابق، واقعے کے 7 ملزمان میں سے ایک عثمان ابرار عرف عثمان مرزا اور اس کے دیگر ساتھی ملزمان نے ان کے سامنے جوڑے کو جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تاکہ وہ اس کی فلم بندی کرسکیں تاکہ انہیں بعد میں بلیک میل کیا جائے اور ان سے رقم نکلوائی جاسکے۔چالان میں پولیس نے بتایا کہ جرم میں 7 افراد ملوث تھے اور عثمان کے علاوہ واقعے کے دیگر ملزمان فرحان شاہین، حافظ عطا الرحمٰن، ابراس قیوم بٹ، رحمٰن حسن مغل، عمر بلال اور محب بنگش نے خاتون کو ان کے سامنے اس کے ساتھی سے جنسی تعلق قائم نہ کرنے پر گینگ ریپ کرنے کی دھمکی دی تھی۔چالان میں متاثرہ لڑکی کا بیان شامل کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں ان کی دھمکیوں سے خوف زدہ تھی، انہوں نے مجھ پر تشدد کیا اور میرے ساتھی کا زبردستی ٹراوزر اتار دیا، اس کے بعد ملزمان نے مجھے برہنہ ڈانس کے لیے مجبور کیا۔متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ میرے انکار پر عثمان نے مجھ پر تشدد شروع کردیا، اس نے مجھے تھپڑ مارا اور اپنے ساتھیوں کے سامنے برہنہ چہل قدمی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔چالان میں کہا گیا تھا کہ ملزم نے خاتون کے برہنہ ڈانس کا فائدہ بھی اٹھایا اور اس کے ساتھی نوجوان سے 6 ہزار روپے بھی چھین لیے۔پولیس کا چالان میں مزید کہنا تھا کہ واقعے کے بعد ملزم نے ان کو بلیک میل کرنا شروع کیا اور جوڑے سے رقم کا مطالبہ کیا جبکہ ملزم عمر بلال نے مختلف موقع پر متاثرہ لڑکے سے 11 لاکھ 20 ہزار روپے تک وصول کیے۔چالان میں مزید کہا گیا کہ موبائل فون پر واقعے کی شیئر کی جانے والی ویڈیو دیکھنے کے بعد گولڑہ تھانے کے سب انسپکٹر عاصم غفار نے ملزمان کے خلاف مقدمے کا اندراج کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…