جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

سوشل میڈیا صارفین کا نگار جوہر کے کردار کیلئے ماہرہ خان کو کاسٹ کرنے پر اعتراض

datetime 31  اگست‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی) سوشل میڈیا صارفین نے پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کی زندگی پر بننے والی فلم میں ماہرہ خان کو مرکزی کردار کے لیے کاسٹ کرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انڈسٹری میں اور بھی اداکارائیں تھیں جنہیں کاسٹ کیا جاسکتا تھا۔

چند روز قبل پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کی زندگی پر بننے والی ٹیلی فلم ’’ایک ہے نگار‘‘ کا پہلا ٹیزر جاری کیا گیا تھا۔ فلم میں ماہرہ خان نے نگار جوہر کا مرکزی کردارادا کیا ہے۔ یہ فلم پاک فوج کی پہلی تھری اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی پاکر ملک کی پہلی لیفٹیننٹ جنرل اور پاکستان کی پہلی خاتون سرجن نگار جوہر کی زندگی پر مبنی ہے۔دوروز قبل ٹیلی فلم کا دوسرا ٹیزر جاری کیا گیا۔ پہلے تو لوگوں نے ٹیلی فلم کے ٹیزر کو سراہا۔ تاہم اب سوشل میڈیا صارفین نے نگار جوہر کے کردار کے لیے ماہرہ خان کو کاسٹ کرنے پر اعتراض اٹھایا ہے۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جب کسی کی بائیوگرافی پر فلم یا ڈراما بنایاجاتا ہے تو کوشش کی جاتی ہے کہ اداکار کے چہرے اور اْس شخص کے درمیان تھوڑی بہت مشابہت ہو جس کی زندگی پر فلم بنائی جارہی ہے۔ لیکن یہاں تو اس بات کا خیال ہی نہیں رکھا گیا۔ کیونکہ جنرل نگار جوہر اور ماہرہ خان کے چہرے میں مشابہت نہیں ہے۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جنرل نگار جوہر اور اداکارہ اریبہ حبیب کے چہرے میں بہت زیادہ مماثلت ہے لہذا اس کردار کے لیے ماہرہ خان کی جگہ اریبہ حبیب کو کاسٹ کرنا چاہئے تھا۔ قرۃ العین ندیم نے کہا یہ کردار اریبہ حبیب پر بہت زیادہ سوٹ کرتا۔ تاہم کچھ لوگوں نے جنرل نگار جوہر کے کردار کے لیے اداکارہ صنم بلوچ کا نام بھی تجویز کیا۔ٹیلی فلم ’’ایک ہے نگار‘‘ کی کہانی عمیرہ احمد نے تحریر کی ہے۔ فلم کی ہدایت عدنان سرور نے دی ہے جب کہ نینا کاشف اور ماہرہ خان کی پروڈکشن کمپنی سلفری فلمز کے بینر تلے اس فلم کو تیار کیا گیا ہے۔نگار جوہر ایک شاندار سرجن ہیں جنہوں نے اپنی زندگی لگن کے ساتھ میڈیکل کے شعبے میں کام کرتے ہوئے گزاری۔ وہ اس شعبے سے 1985 سے وابستہ ہیں۔ ٹیلی فلم میں نگار جوہر کا کردار ماہرہ خان نے ادا کیا ہے جب کہ ان کے مقابل اداکار بلال اشرف مرکزی کردار میں نظرآئیں گے۔ٹیلی فلم کا ابتدائی حصہ آرمی میڈیکل کالج میں شوٹ کیاگیا ہے جس میں نگار جوہر کی طالبعلمی کی زندگی اور اس کے بعد پیشہ ورانہ زندگی کو دکھایا جائے گا۔ یہ ٹیلی فلم نجی ٹی وی چینل اے آر وائے ڈیجیٹل پر پیش کی جائے گی تاہم ابھی تک اس کی ریلیزکی تاریخ منظرعام پر نہیں آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…