منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کپاس کے بڑے پیداواری علاقے سیلاب کی زد میں

datetime 27  جولائی  2015 |

رحیم یار خان (نیوز ڈیسک) ملک بھر میں کپاس کے بڑے پیداواری علاقے سیلابی بارش کی زد میں آنے سے کاٹن کی چنائی کا عمل معطل ہو کر رہ گیا۔ کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین احسان الحق رامے کے مطابق پنجاب میں رحیم یار خان ، بہاولپور ، وہاڑی ، ملتان پاک پتن جبکہ سندھ میں گھوٹکی ، سکھر ، میر پور خاص اور بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر کپاس کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے رواں مالی سال مقامی طلب کو پورا کرنے کےلئے امپورٹ پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب کپاس کی چنائی روک جانے سے جننگ فیکٹریوں میں پیداواری عمل معطل ہوکر رہ گیا ہے جس کے باعث ٹیکسٹائل سیکٹر کو سپلائی میں بھی خلل آنے کا خدشہ ہے۔ جنرز کے مطابق غیر یقینی صورتحال کے باعث فی من کپاس 100 روپے مہنگی ہوکر سندھ میں 4750 اور پنجاب میں 5 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…