جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

ہتھیار ناپید ہیں، افغانستان نے امریکہ سے مدد مانگ لی

datetime 24  جولائی  2021 |

کابل(آن لائن) افغانستان میں ارکان پارلیمان نے طالبان کے بڑھتے حملوں کے دوران ملک کی ایئرفورس کی خراب حالت سے خبردار کرتے ہوئے امریکہ سے کہا ہے کہ مکمل انخلا سے قبل اس حوالے سے مدد کی جائے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی کانگریس سے ورچول میٹنگ کے دوران افغان پارلیمنٹ کے ارکان کے وفد نے اپیل کی کہ

طیاروں کی مرمت اور سامان کی فراہمی کے حوالے سے فوری مدد کی جائے۔وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی صدر نے جمعے کو اپنے افغان ہم منصب اشرف غنی سے ٹیلیفونک رابطے میں بھی اس حوالے سے بات کی اور کابل کی فوجی مدد جاری رکھنا کے عزم کا اظہار کیا۔افغانستان کے رکن پارلیمان حاجی اجمل رحمانی نے امریکی کانگریس کو ورچول اجلاس کے دوران بتایا کہ طالبان کے حملوں کے بعد ’سکیورٹی کی صورتحال انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایئرفورس کے 150 جہازوں میں سے ایک تہائی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے گراؤنڈ ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان ایئرفورس کو لیزر گائیڈڈ ہتھیار بھی نہیں دیے گئے کیونکہ نیٹو اتحاد اور امریکی افواج ہتھیاروں کا 90 فیصد تک ذخیرہ اپنے پاس رکھتیں اور جلد بازی میں انخلا کے دوران یہ مقامی فوج کو حوالے نہیں کیا گیا۔افغان رکن پارلیمان کے مطابق لیزر گائیڈڈ ہتھیاروں کی مدد سے ہدف کو نشانہ بنانا آسان ہوتا ہے اور اس سے عام شہری آبادی کی ہلاکتوں سے بچا جا سکتا ہے۔اجمل رحمانی نے کہا کہ ’کانگریس کا ردعمل یہ تھا کہ اس سب پر وقت لگے گا کیونکہ وہ اس کے لیے آرڈر کریں گے اور پھر ان کے بنانے اور افغانستان پہنچانے کے لیے کافی وقت درکار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ’وہ بتا رہے تھے کہ ان ہتھیاروں افغانستان پہنچنے پر لگ بھگ ایک سال کا وقت لگے گا۔ یہ اس وقت بہت زیادہ ضرورت کی چیز ہے۔‘

افغانستان کی پارلیمان کی ڈیفنس کمیٹی کے چیئرمین میر حیدر افضلی نے بتایا کہ ایئرفورس کے طیارے مرمت اور اضافی پرزے نہ ہونے کی وجہ سے گراؤنڈ ہیں اور کورونا کی وبا کے باعث امریکی ٹیکنیشنز پہلے ہی ملک چھوڑ کر جا چکے تھے جبکہ طیاروں کی عمر بھی زیادہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایئرفورس کے طیارے روزانہ 70 سے 80 پروازیں کرتے ہیں اور یہ صرف طالبان پر حملوں کے لیے نہیں بلکہ دور دراز علاقوں میں سپلائی برقرار رکھنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں جو زمینی رابطے کٹنے کے بعد ضروری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…