جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

جیل میں قیدیوں کے ساتھ جانوروں سے بھی برا سلوک کیا جاتا ہے،سیاسی جماعت کے 4 قیدی نئے آنیوالے قیدیوں سے ہزاروں روپے طلب کرتے ہیں،ضمانت پر رہا ہونے والے فدا حسین مہر کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 10  جولائی  2021 |

کراچی (این این آئی)سینٹرل جیل کراچی میں قیدیوں پر تشدد اور بااثر قیدیوں کی جانب سے نئے آنے والے ملزمان سے بھاری رقم کی وصولی کا انکشاف ہوا ہے۔رقم نہ دینے کی صورت میں انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔گورنر سندھ نے سینٹرل جیل میں قیدیوں سے ناروا سلوک کا نوٹس لیتے ہوئے اے آئی جی جیل خانہ جات سے

رپورٹ طلب کرلی ہے۔تفصیلات کے مطابق سینٹرل جیل کراچی سے ضمانت پر رہا ہونے والے فدا حسین مہر نے انکشاف کیا ہے کہ جیل میں قیدیوں کے ساتھ جانوروں سے بھی برا سلوک کیا جاتا ہے۔ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے 4قیدی نئے آنے والے قیدیوں 50ہزار روپے طلب کرتے ہیں اور نہ رقم نہ دینے پر انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ایم کیو ایم کے قیدیوں کا کہنا ہے کہ وہ 9لاکھ روپے بھتہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو دیتے ہیں۔اگر ان کو پیسے نہیں ملتے ہیں تو وہ قیدیوں سے ملاقات کے لیے آنے والوں کے سامنے ان پر تشدد کرتے ہیں تاکہ ان کے اہل خانہ رحم کھاکر ان کے پیسے دیدے۔جیل میں قید 75فیصد لوگ بے گناہ ہیں۔جیل کے اندر چرس،ماوا،گٹکا اور تمام نشہ باآسانی دستیاب ہے۔قیدیوں کے انچارج بزرگ افراد کا بھی احترام بھی نہیں کرتے ہیں ان کو داڑھی سے پکڑ کر مارا جاتا ہے۔فدا حسین مہر نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی ایما پر ہونے والے قیدیوں پر ہونے والے تشدد کا نوٹس لیا جائے۔دریں اثناء گورنرسندھ عمران اسماعیل نے فدا حسین مہر کے انکشافات کا نوٹس لیتے ہوئے اے آئی جی جیل خانہ جات سے مفصل رپورٹ طلب کرلی ہے۔ سینٹرل جیل کراچی میں قیدیوں پر تشدد اور بااثر قیدیوں کی جانب سے نئے آنے والے ملزمان سے بھاری رقم کی وصولی کا انکشاف ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…