اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن /این این آئی )طالبان کی پیش قدمی ، بھارتی فوج اپنا سامان افغان سرزمین پر ہی چھوڑ کر بھاگ نکلی۔ تفصیلات کے مطابق افغان طالبان کی پیشقدمی جاری ہے افغانستان میں موجود بھارتی فوج اور دیگر حکام نےاپنا سامان چھوڑ کر راہ دم دبا کر بھاگنا شروع ہو گئے ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی بگرام ائیربیس سے گزشتہ چند روز کے
دوران بھارتی کارگو طیاروں کی متعدد پروازیں بھارت روانہ ہوئی ہیں ان میں بھارتی فوجی اہلکار اور حکام موجود تھے جو جلد بازی میں اپنا سامنا افغانستان چھوڑ آئے ،بھارت کے فوجی اور دیگر اہلکار جلد سے جلد افغانستان سے بھاگنے کیلئے کوشاں ہیں۔دوسری جانب امریکی فوج نےمطلع کیے بغیر رات کی تاریکی میں خاموشی سے بگرام ایئربیس چھوڑا۔افغان عسکری حکام کا کہنا ہے کہ کہ امریکی اڈے سے نکلے اور کابل ائیر پورٹ پر پہنچ کر افغان فوج کو اطلاع دی کہ ہم نے ایئربیس چھوڑ دیا ہے۔امریکی فوج نے ایئربیس چھوڑ نے سے قبل بجلی منقطع کر دی اور بتائے بغیر افغانستان میں اپنا سب سے بڑا اور مضبوط فوجی اڈہ چھوڑ دیا۔ افغان فوج کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے جانے کا علم انہیں دو گھنٹے بعد ہوا۔افغان حکام نے بتایا ہمیں صبح 7 بجے معلوم ہوا کہ امریکہ بگرام ائیربیس چھوڑ چکا ہے۔ قبل ازیں افغان طالبان نے ملک کے شمالی حصے میں مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ صوبہ بدخشاں میں طالبان نے بغیر کسی جنگ و جدل کے زیادہ تر علاقوں کا کنٹرول حاصل کیا جبکہ صوبہ بلخ میں بھی لڑائی جاری ہے۔ اسی دوران قریب ایک ہزار افغان فوجی جان بچانے کے لیے ہمسایہ ملک تاجکستان داخل ہو گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان کی ان کامیابیوں کے بعد ترکی اور روس نے مزار شریف میں قائم اپنے قونصل خانے بند کر دیے ہیں جبکہ ایران نے اپنے سفارتی عملے کو نقل وحرکت محدود کرنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب طالبان کی پیش قدمی جاری، چار طالبان نے افغانستان ، پاکستان ، تاجکستان اور چین کے بارڈر پر واقع واخان ضلع پر قبضہ کرلیا۔کے مطابق صوبہ بدخشاں کا واخان ضلع افغانستان، پاکستان، تاجکستان، چین بارڈر پر ہے اور واخان کوریڈور کی وجہ سے دنیا میں جانا جاتا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ یہاں صرف 4 طالبان ایک گاڑی میں پہنچے اور ضلع کو اپنے کنٹرول میں لے لیا، لوگوں نے خیرمقدم کیا۔ واخان کی آبادی اسماعیلی ہے۔ قبل ازیں افغان طالبان نے ملک کے شمالی حصے میں مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ صوبہ بدخشاں میں طالبان نے بغیر کسی جنگ و جدل کے زیادہ تر علاقوں کا کنٹرول حاصل کیا جبکہ صوبہ بلخ میں بھی لڑائی جاری ہے۔ اسی دوران قریب ایک ہزار افغان فوجی جان بچانے کے لیے ہمسایہ ملک تاجکستان داخل ہو گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان کی ان کامیابیوں کے بعد ترکی اور روس نے مزار شریف میں قائم اپنے قونصل خانے بند کر دیے ہیں جبکہ ایران نے اپنے سفارتی عملے کو نقل وحرکت محدود کرنے کا حکم دیا ہے۔خیال رہے کہ افغانستان کی وزارت برائے امن امور کی ترجمان ناجیہ انوری نے کہاہے کہ طالبان کی جانب سے 1 ماہ میں تحریری امن منصوبہ دیا جانا مشکل لگ رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغانستان کی وزارت برائے امن امور کی ترجمان ناجیہ انوری نے جاری کیئے گئے ایک بیان کے ذریعے افغان طالبان کے تحریری امن منصوبے کے بیان پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم مثبت رہتے ہوئے امید کر تے ہیں کہ افغان طالبان تحریری امن منصوبہ پیش کردیں گے۔واضح رہے کہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کے دوران آئندہ ماہ تحریری امن منصوبہ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔قبل ازیں افغانستان میں امریکی سفارت خانے کی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ سفارت خانہ ہر قسم کے حالات میں عملے کی حفاظت کے تفصیلی منصوبے رکھتا ہے۔امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی سفارت خانے کی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی اور بتایا کہ حالیہ دنوں میں سیکیورٹی کی صورتِ حال کا کثرت سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سفارت خانے میں 1400 امریکی شہری اور تقریبا 4 ہزار عملے کے اراکان موجود ہیں، سفارت خانے کے عملے اور سہولتوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس منصوبے ہیں۔ کابل میں واقع امریکی سفارت خانہ کھلا ہے اور کھلا رکھنے کا اعلان کر چکا ہے، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے سبب کابل میں آسٹریلیوی سفارت خانہ بند ہو گیا ہے۔امریکی میڈیا کا مزید کہنا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے سبب دیگر مغربی ممالک کے سفارت خانوں نے اپنا عملہ کم کر دیا ہے۔امریکی میڈیا نے یہ بھی بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے سبب انٹرنیشنل ایڈ آرگنائزیشنز کے زیادہ تر غیر ملکی عملے نے کابل چھوڑ دیا ہے۔



















































