جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

جرمنی نے 2400افغان ملازمین کو ویزے جاری کر دیے

datetime 7  جولائی  2021 |

برلن(این این آئی) جرمن حکام نے کہاہے کہ انہوں نے ملک کی فوج کے 2 ہزار 400 افغان ملازمین اور ان کے رشتہ داروں کو ویزے جاری کردیے ہیں، تاہم ان میں سے تمام فوری طور پر جرمنی نہیں آنا چاہتے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں امریکا کے بعد

دوسرا بڑا دستہ رکھنے والی جرمن فوج نے، جس نے 20 سال تک ملک کے شمال پر توجہ مرکوز رکھی، اپنا آخری دستہ بھی گزشتہ ہفتے افغانستان سے بلا لیا ہے۔اپریل میں جرمن وزیر دفاع اینگریٹ کرامپ کرینبر نے کہا تھا کہ جرمنی کی یہ بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر محفوظ مقامی افراد جنہوں نے خود کو خطرے میں ڈال کے فورسز کی مدد کی، انہیں تنہا نہ چھوڑا جائے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رائنر بریول نے کہا کہ حالیہ ہفتے مقامی ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے 2ہزار 400جرمن ویزوں کی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ افواج کے انخلا اور مزارِ شریف میں واقع جرمن قونصل خانے کو بند کرنے کا مرحلہ دشوار ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ برلن، بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین جیسے پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث دفتری کام تاحال شروع نہیں کیا گیا ہے۔ترجمان جرمن وزارت دفاع ڈیوڈ ہیلمبولڈ نے کہا کہ فوج بلانے سے قبل 446 مقامی ملازمین اور ان کے اہل خانہ سمیت مجموعی طور پر 2 ہزار 250 افراد کو سفری دستاویزات دی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اب نسبتا کم درخواستوں کی ہی گنجائش باقی ہے۔ڈیوڈ ہیلمبولڈ نے برلن میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد کو یہ کاغذات موصول ہوئے ان میں سے تمام افراد جلد وطن چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں۔ان میں متعدد ملازمین ایسے ہیں جنہوں نے کہا کہ جب تک ممکن ہوا وہ افغانستان میں رہنا چاہتے ہیں اور سیکیورٹی صورتحال خراب ہونے پر وطن چھوڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ جلد وطن نہ چھوڑنے والے افراد کی تعداد نہیں بتا سکتے ہیں۔گزشتہ ہفتے امریکی فوج نے افغانستان میں اپنی سب سے بڑی ایئربیس خالی کردی تھا اور پینٹاگون نے کہا تھا کہ حتمی انخلا اگست کے آخر تک مکمل ہوگا۔افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا عمل بڑی حد تک مکمل ہوچکا ہے اور جرمنی سمیت بہت سے اتحادیوں نے رواں ہفتے اپنی فوجیں واپس بلالی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…