منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

کھانسی کی آواز سن کر کووڈ 19 کی تشخیص کرنے والی اے آئی ٹیکنالوجی تیار

datetime 18  جون‬‮  2021 |

کینبرا(این این آئی )آسٹریلیا میں کھانسی کی آواز سن کر کووڈ 19 کی تشخیص کرنے والی اے آئی ٹیکنالوجی تیارکرلی گئی ،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یونیورسٹی کی تحقیق میں اس اے آئی ماڈل کے بارے میں بتایا گیا جو کھانسی کی آواز سے کووڈ کے اثرات کو سن سکے گا چاہے وہ بغیر علامات والے مریض ہی کیوں نہ ہوں۔

محققین نے بتایا کہ ان کے الگورتھم کو مزید بہتر بناکر بیماری کی تشخیص کرنے والی موبائل فون ایپ کا حصہ بنایا جاسکے گا۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے ایک قابل اعتبار، آسانی سے قابل رسائی اور کووڈ کے ابتدائی تشخیص کے ٹول کی تیاری میں حائل بڑی رکاوٹ پر قابو پالیا ہے، اس سے ان افراد سے وائرس کے پھیلا کی شرح کو سست کرنے میں مدد مل سکے گی جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک موبائل ایپ سے برادری کی سطح پر بیماری پھیلنے یا کووڈ ٹیسٹ کرانے کی فکر سے نجات مل جائے گی، ایسا ٹول وبا کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایسے خطوں کے لیے بہت اہم ٹول ہوگا جن کو طبی سامان، ٹیسٹنگ کے ماہرین اور ذاتی تحفظ کے سامان کی قلت کا سامنا ہوگا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طریقہ کار کو نظام تنفس کے دیگر امراض کے لیے بھی توسیع دی جاسکے گی۔یہ پہلی بار نہیں جب کسی اے آئی الگورتھم کو کھانسی سے کووڈ کی تشخص کے لیے تیار کیا گیا مگر آسٹریلین ماڈل نے دیگر ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا جبکہ یہ مختلف خطوں میں زیادہ عملی بھی ثابت ہوگا۔محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی کو تشکیل دینے کی سابقہ کوششیں جیسے ایم آئی ٹی اور کیمبرج یونیورسٹی کی کوششوں میں ڈیٹا کے ذریعے اے آئی ماڈل کو تربیت دینے پر انحصار کیا گیا۔انہوں نے کہا

کہ نظام تنفس کی آوازوں کو شناخت کے لیے ماہرین کی خاص تفصیلات کی ضرورت ہوتی ہے، جو اسے مہنگا اور وقت طلب بناتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے مقابلے میں ٹارگٹڈ ڈیٹا جیسے کسی ایک ہسپتال یا خطے کے کھانسی کے نمونوں کو استعمال کرکے الگورتھم کو تربیت دینا لیبارٹری سے باہر محدود کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک حد سے آگے نہ بڑھ پانا اس ٹیکنالوجی کے عملی اطلاق کے لیے اب تک ایک چیلنج تھا، ہمارا کام

اس مسئلے پر قابو پانے میں کامیاب رہا اور الگورتھم کی تربیت کے لیے ایسا طریقہ کار تشکیل دیا گیا جس میں ان لیبل سانڈ ڈیٹا استعمال کیا گیا۔تحقیقی ٹیم نے 2 پلیت فارمز کووڈ 19 سانڈ ایپ اور کوس وارا کے ڈیٹا سیٹس کو استعمال کرکے الگورتھم کو تربیت دی تاکہ وہ خود کو تربیت دینا سیکھ سکے۔اب تحقیقی ٹیم کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کو حتمی شکل دینے اور ایپس تک پہنچانے کے لیے ممکنہ شراکت داروں کو تلاش کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…