منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ میں گالم گلوچ کرنیوالے اراکین کیخلاف سخت ایکشن لے لیا

datetime 16  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد(اے پی پی)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گزشتہ روزبجٹ سیشن کے دوران ایوان میں غیر پارلیمانی رویہ اور نازیبا زبان استعمال کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات کے بعد جو جو ارکان ملوث پائے گئے انکے آج ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے گی ۔ اپنے ایک ٹویٹ میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے ایوان میں

غیر پارلیمانی اور نازیبا الفاظ کے استعمال پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس واقع کی مکمل تحقیقات کرائی جائے گی اور جو جو ارکان اس میں ملوث پائے گئے ان کی آج سے ایوان میں داخلے پر پابندی عائدکی جائے گی ۔دوسری جانب وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں ہونے والا واقعہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے، پہلے معاہدہ کرنا اور پھر معاہدوں کی خلاف ورزی کرنا اپوزیشن کا وطیرہ ہے، بجٹ کے دوران بھی اپوزیشن نے شور شرابہ اور ہنگامی آرائی کی، اپوزیشن نے بجٹ سنا ہی نہیں تو اسمبلی میں تنقید کس بات پر کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے  نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کتابیں اٹھا کر ماری گئیں جس کی وجہ سے ہمارے کچھ ممبران زخمی بھی ہوئے،اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ماضی کی تاریخ بھی دیکھی جائے تو پہلے یہ آپس میں گتھم گتھا ہوا کرتے تھے

اور انہوں نے ایک خاص کلچر کو فروغ دیا، اب اسی کلچر کے تسلسل کو یہ آگے لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جب حلف لیا اور پہلی تقریر کی، اس وقت بھی اپوزیشن جماعتوں کا اسی طرح کا ردعمل تھا اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو تقریر نہیں کرنے دی، پہلے معاہدہ کرنا اور پھر معاہدوں کی خلاف ورزی کرنا اپوزیشن کا

وطیرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اپوزیشن جماعتیں ملک کے نظام کو چلنے نہیں دے رہیں اور نہ ہی قانون سازی کرنے دے رہی ہیں،اپوزیشن جماعتیں صرف اور صرف اپنی ذات کی سیاست میں گم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ پیش کرنے کے دوران اپوزیشن کا رویہ سب نے دیکھا ہے، بجٹ میں کوئی ایسی

باتیں نہیں ہوتی جن میں اپوزیشن کے بارے میں کچھ بھی ایسا کہا جائے جس پر اپوزیشن احتجاج کرنا شروع کر دے بلکہ بجٹ تو ایک ایسی دستاویز ہے جس کو ہمہ تن گوش سننا چاہیے لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اس وقت بھی بجٹ کی تقریر نہیں سنی اور احتجاج کرنا شروع کر دیا۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ملک میں اخلاقیات کو

تباہ کیا، کرپشن کو کوئی برا نہیں سمجھتا، گزشتہ حکومتوں کے دوران اچھے اور برے کا فرق ختم کر دیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ موجودہ بجٹ عوام دوست اور متوازن بجٹ ہے، پورے ملک میں اس بجٹ کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے جبکہ اپوزیشن اس بجٹ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…