منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

گھی اور آئل کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا

datetime 12  جون‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی) ملٹی نیشنل کمپنی نے گھی اور آئل کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنی کے فی لیٹر آئل کی قیمت6روپے اضافے سے 311روپے ہو گئی جبکہ پانچ پیکٹ پیٹی کی قیمت1525سے بڑھ کر 1555روپے ہو گئی۔ مذکورہ کمپنی کے گھی کی قیمت میں بھی 6روپے فی کلو اضافہ کیا

گیا ہے جس سے پانچ پیکٹ کی پیٹی کی قیمت30روپے اضافے سے 1555روپے ہو گئی۔علاوہ ازیں ملٹی نیشنل کے شیمپو کی 200ایم ایل کی بوتل 10روپے اضافے سے260روپے میں مارکیٹ میں فروخت کی جارہی ہے۔ تین ماہ کے دوران شیمپو کی قیمتوں میں 25سے30روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسری جانب امیرجماعت اسلامی صوبہ پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ نے عوام کو مایوس کیا ہے۔ تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جانا چاہیے تھا۔ بجٹ میں عوام پر 385ارب روپے کا اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کا فیصلہ تشویشناک ہے۔ عوام پہلے دو قت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔ مزدوروں کے گھروں میں فاقہ کشی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف تقریبات سے خطاب ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے بینکنگ سیکٹر سے 681ارب روپے قرض لے گی، جبکہ ملکی و غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 3060ارب روپے خرچ ہوں گے۔ حکومت مجموعی طور پر 11246روپے مالیت کے غیر ملکی قرضے حاصل کرے گی، جس سے حکمرانوں کے معاشی وژن کا پتا چلتا ہے۔ ثابت ہوگیا ہے کہ وفاقی بجٹ الفاظ گورکھ دھندا ہے۔ تعلیم و صحت کے لیے مختص بجٹ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کفایت

شعاری کا درس دینے والے وزیر اعظم، وزراء مشیران اور معاونین کی تنخواہیں کی مد میں 27کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ صدر کے ذاتی دفتر ی ملازمین کی تنخواہوں و دیگر اخراجات کے لیے 61کروڑ پچاس لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ عوام سوال پوچھتے ہیں کہ کہا ں ہے وہ دعوے جو حکمران قوم کے سامنے کرتے نہیں تھکتے تھے۔؟ محمدجاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ملک میں شعبہ زراعت کو ریڑھ کی ہڈی سے سمجھا

جاتا ہے۔ بد قسمتی سے موجودہ حکمرانوں نے جہاں بجٹ میں دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کو مایوس کیا ہے وہاں کاشتکاروں کی مشکلات میں بھی اضافہ کر دی ہے۔ زراعت کے لیے 12ارب مختص کرنا کسان دشمنی کی واضح مثال ہے۔بجٹ میں کسانوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے تھا۔ 900ارب روپے کے بجٹ میں 479ارب روپے حکومتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں اور باقی دیگر منصوبہ جات پر خرچ ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…