ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

جاپان کے نوجوان شادی کرنے سے گریزاں

datetime 21  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ آبادی میں اضافے سے قدرتی وسائل پر دبا بڑھتا چلا جاتا ہے جس سے ملکی ترقی کے ساتھ ساتھ عوام کا معیار زندگی بھی متاثر ہوتا ہے۔خیر، پاکستان کے معاملے میں بڑھتی ہوئی آبادی سے زیادہ حکمرانوں کی لوٹ مار ملک و قوم کو نقصان پہنچا رہی ہے۔دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جن کی گھٹتی ہوئی آبادی ان کے لیے دردِ سر بن گئی ہے۔ جاپان کا شمار بھی ان ہی ملکوں میں ہوتا ہے۔ جاپان کی وزارت خارجہ کے مطابق پچھلے چھے سال سے آبادی میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ 2013 کے مقابلے میں 2014 میں ملک کی آبادی 271058 نفوس کم ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شرح پیدائش میں گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا تو آنے والی صدی میں جاپان دنیا کے نقشے پرنہیں ہوگا۔مشرقی ایشیائی ملک کی تیزی سے گھٹتی آبادی کی کئی وجوہ ہیں۔ ان میں بچے کی پیدائش اور پرورش پر آنے والے بلند اخراجات، تجارتی و کاروباری شعبوں میں عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، شادی میں نوجوان عورتوں اور مردوں کی عدم دل چسپی شامل ہیں۔شرح پیدائش میں اضافے کے لیے کئی برس سے حکومت سرتوڑ کوششیں کررہی ہے۔ شادی کرنے کے لیے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ نومولود بچوں کی پرورش میں ان کا ہاتھ بٹانے کی پیش کش بھی کی گئی ہیں۔ تاہم ان اقدامات کا اب تک کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔دنیا کی تیسری بڑی معیشت کی آبادی اس وقت 12 کروڑ60 لاکھ ہے۔ اگر شرح پیدائش و اموات کے درمیان موجودہ فرق برقرار رہتا ہے تو 2050 تک جاپانیوں کی تعداد مزید تین کروڑ کم ہوجائے گی۔ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ گرتی ہوئی آبادی ملک کو مختلف طرح سے متاثر کرے گی۔ اس کا سب سے زیادہ اثر ترقی کی رفتار پر پڑے گا۔ کیوں کہ ملک میں عمررسیدہ لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ جاپان کی تاریخ میں پہلی بار 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد مجموعی آبادی کا 25 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…