پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

’’اس جڑی بوٹی کا قہوہ پینے والا جلد بوڑھا نہیں ہوتا‘‘

datetime 1  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )قہوہ یا ہربل ٹی ہر ملک میں اب عام پائی جاتی ہیں ان کو نہ صرف مختلف بیماریوں میں شفاکیلئے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ جسم کو متناسب رکھنے اور اس کی خوبصورتی برقرار رکھنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے . دنیا بھر میں ملائیشیااورانـڈونیشیا جڑی بوٹیوں سے مالا مال ممالک کے طور پر جانے جاتے ہیںجہاں نت نئے اور صدیوں سے روائتی انداز میں

مروّجہ ہربل قہووں کا راج ہے . اسی طرح کی ایک جڑی بوٹی تونکات علی کا قہوہ ملائیشیا میں عام ہے اور پوری دنیا میں اس کی بے پناہ مانگ ہے. ملائی زبانمیں اس جڑی بوٹی کو ’’تونکات علی ‘‘جبکہ عربی میں اسکو ’’عکازہ علی‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے. دنیا بھر میں یہ کہیں پائوڈر، کہیں کیپسول اور کہیں ٹی بیگ میں بک رہا ہوتا ہے. تونکات علی“ نامی اس جڑی بوٹی کی جڑوں کو گرم جڑوں کو گرم پانی میں ابال کر پیا جاتا ہے.اسکے طبی فوائد بے شمار ہیں . اس سے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا قہوہ پینے والا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا.اس کو مردانہ قوت میں اضافے کیلئے بھی پیا جاتا ہے، اعصاب کی کمزوری میں بے پناہ فائدہ مند ہےجن لوگوں کے گردوں میں پتھریاں ہوں انہیں یہ قہوہ پلایا جاتا ہے .”تونکات علی“ پینے والوں کو شوگر نہیں ہوتی،ملیریا کابہترین تریاق ہے.خون کی گردش کومعمول پر رکھتا ہے.ملائیشیا اور انڈونیشیا کی خواتین ہارمونز کی گروتھ بڑھانے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…