پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

”اٹھانا ، مارنا پیٹنا اور پھر کہنا کہ لڑکی کے بھائیوں نے کیا ہے اسکا کوئی فائدہ نہیں”حامد میر کا نیا ٹوئٹ آگیا

datetime 1  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی حامد میر نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے خاتون صحافی نسیم زہرا کے پروگرام کا ویڈیو کلپ شیئر کیا اور کہا کہ اٹھانا ، مارنا پیٹنا اور پھر کہنا کہ لڑکی کے بھائیوں نے کیا ہے اسکا کوئی فائدہ نہیں ،اگر کسی صحافی نے غلط بات کہہ دی

تو عدالت میں جائیے،نسیم ظہرہ نے اصولی طور پر درست بات کی ہے لیکن اسد طور کو مارنے سے پہلے جھوٹے مقدمات میں الجھایا گیا اب پھر یہی ہو رہا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روزپابندی لگنے کے بعد حامدمیر نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ نیا نہیں، ”ماضی میں دو دفعہ مجھ پر پابندی لگائی گئی، دو دفعہ نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے، قاتلانہ حملے میں بچ نکلا لیکن آئین میں دیئے گئے حقوق کیلئے آواز بلند کرنا نہیں روکا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اس وقت میں کسی بھی قسم کے نتائج کیلئے تیار ہوں اور کسی بھی حدتک جانے کو تیار ہوں کیونکہ وہ میری فیملی کو دھمکیاں دے رہے ہیں”۔ دوسر ی جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے جیو نیوز کے اینکر اور صحافی حامد میر کو اپنے ہی شو کیپیٹل ٹاک سے ‘آف ایئر’ کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اظہار رائے کی آزادی پر ایک حملہ قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…