پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

جی ڈی پی کے لیے شرح نمو کا ایک وزیر نے حکم دیا کہ 4 فیصد دکھانا ہے، لیگی رہنمائوں کا حقائق سامنے لانے کا اعلان

datetime 23  مئی‬‮  2021 |

کراچی (آن لائن)مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ حکومت نے معیشت کے جھوٹے اعدادوشمار جاری کیے، جی ڈی پی کے لیے شرح نمو کے ایک وزیر نے حکم دیا کہ 4 فیصد دکھانا ہے، یہ بڑی افسوس کی بات ہے ، وفاقی حکومت جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے، مگر ہم عوام کو حقائق بتائیں گے۔ ملک میں 85 لاکھ افراد بے روزگار ہیں

جبکہ عمران خان نیاب تک بجلی کی قیمتوں میں60 فیصد اضافہ کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کراچی میں سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مفتاح اسمعیل کا کہنا تھا کہ معیشت کے فیچرز سے اس حکومت نے کھلواڑ کیا ہے، حکومت معیشت کو بہتر کرنے کے بجائے نمبرز پر بھی ابہام پیدا کر دیا۔ ایک وزیر نے ہدایت دی تھی کہ معاشی شرح نمو کو 4 فیصد دکھایا جائے جبکہ اصل میں صرف 3 فیصد ہے۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ 26 ملیں ٹن گندم کی پیداوار کو بھی بڑھا چڑھا کر بتایا گیا ہے۔ ہماری حکومت میں 35 لاکھ لوگ بے روزگار تھے جو اب 85 لاکھ ہو گئے، جب ہم کو حکومت ملی تھی اس وقت ساڑھے سات کروڑ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے تھے مگر جب ہم گئے تو وہ تعداد کم ہو کر ساڑھے پانچ کروڑ رہ گئی تھی۔ جو آج دوبارہ ساڑھے سات کروڑ پر پہنچ گئے۔سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ ہر ہفتے 13 فیصد مہنگائی انڈکس اوپر جارہا ہے۔ غذائی اجناس کا خسارہ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بجلی کی قیمتیں 60 فیصد بڑھائی ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ کم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے زمانے میں 2 کروڑ لوگ غربت کی

لکیر سے اوپر آگئے تھے ہمارے دور میں گروتھ ریٹ بڑھ رہا تھا غربت کم ہورہی تھی۔اگر ان کی معیشت زبردست چل رہی ہے تو شوکت ترین نے حلف اٹھانے سے قبل کیوں کہا کہ عمران خان کی حکومت نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت نے ٹیکسز اور بجلی کے نرخ بڑھا دیئے ہیں کہ ملک میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا گیا اور پچاس

لاکھ لوگ بے روزگار کردیے ہیں، اگر معیشت اچھی ہے تو کیا مہنگائی اور غربت میں کمی آرہی ہے اور روزگار میسر ہے؟ ان میں سے کچھ بھی مثبت نہیں ہییہ معیشت ناپنے کا پیمانہ ہییہ اب الٹے بھی لٹک جائیں تو ایک کروڑ کیا دس لاکھ نوکریاں بھی نہیں دے سکتے۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ہم 24 بلین پر ایکسپورٹ چھوڑ کر گئے تھے 315 بلین پر ہم نے جی ڈی پی چھوڑا تھا پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کوئی بھی وزیر ہمارے اعدادوشمار کو چیلنج نہیں کر سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…