پیر‬‮ ، 23 مارچ‬‮ 2026 

جسم فروشی میں حکومت کی رضامندی شامل تھی جنوبی کوریا کی سابق طوائفویں عدالت پہنچ گئیں

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

سےؤل۔۔۔۔ماضی میں ایک امریکی فوجی اڈے کے نزدیک کام کرنے والی 120 سابق طوائفوں نے جنوبی کوریا کی حکومت کے خلاف معاوضے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے جسم فروشی میں ان کی اعانت کی اور انھیں بڑھاپے میں غربت سے دوچار کر دیا ہے۔تاریخ میں جب بھی بڑی فوجوں نے کہیں قیام کیا وہاں چھاونیوں کے گرد ونواح میں خستہ حال بستیاں قائم ہوتی رہی ہیں۔ اور جنوبی کوریا میں ان بستیوں کی دیواریں امریکی فوجی اڈوں کی دیواروں تک پھیل گئی تھیں جو رات بھر بلند آواز موسیقی کی تھرتھراہٹ اور جلتے بجھتے برقی قمقموں میں ڈوبی رہتیں اور دن گذشتہ رات کی دھمکا چوکڑی کی باقیات کو سمیٹنے میں گزر جاتا تھا۔آج یہ بستیاں ایک عجیب قانونی چارہ جوئی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ یہاں بڑھاپے کی دھلیز پر کھڑی 120 سے زائد غریب خواتین نہ صرف امریکی حکام بلکہ اپنی حکومت کے خلاف 10 ہزار ڈالر فی کس کے ہرجانے کے دعوے لے کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے امریکی فوجیوں کو خوش رکھنے کی خاطر جسم فروشی میں ان کی اعانت کی تھی۔گذشتہ دنوں یہ خواتین یوجینبو نامی شہر کے نواح میں امریکی فوجی اڈے کے قریب واقع ایک کمیونٹی سینٹر میں جمع ہوئیں اور لوگوں کے سامنے اپنے مقدمے کی وضاحت کی۔سنہ 1972 میں جب میں ملازمت کے لیے ایک سینٹر پر پہنچی تو وہاں پر موجود افسر نے مجھے کہا کہ ذرا کرسی سے اٹھو اور پھر بیٹھ جاؤ۔ اس نے مجھے دیکھا اور مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ مجھے ایک ایسی ملازمت دلائے گا جہاں سونے اور کھانے کو جگہ ملے گی اور باقی سب چیزیوں کے ذمہ داری میرے باس کی ہو گی۔’ہم ساری رات کام کرتی تھیں۔ میں کوریا کی حکومت سے یہ چاہتی ہوں کہ وہ یہ بات تسلیم کرے کہ یہ نظام اس نے بنایا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ میرا مطالبہ یہ ہے کہ میرے مالی نقصان کی تلافی کی جائے۔‘سابقہ طوائفوں کا مقدمہ یہ نہیں ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے انھیں جسم فروشی پر مجبور کیا تھا، اس لحاظ سے یہ کوئی جنسی غلامی کا مقدمہ نہیں ہے۔ بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے چونکہ سرکاری سطح پر ان کی جنسی صحت کے معائنے کا باقاعدہ نظام ترتیب دیا تھا اس لیے حکومت اس جرم میں شریک تھی اور حکومت کے نظام کی وجہ سے ہی وہ آج غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ جنسی صحت کے معائنوں کے علاوہ حکومت انھیں محفل کے ’مغربی آداب‘ اور انگریزی زبان کی تربیت بھی دیتی رہی ہے۔ کمیونٹی سینٹر میں جمع تمام خواتین نے تسلیم کیا کہ جسم فروشی کی جانب راغب ہونے کی وجہ یہی تھی کہ وہ خود بھی غریب تھیں اور ایک انتہائی غریب ملک میں زندگی گزار رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے نوکری کی درخواستیں دی تھیں تو ان میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ کس قسم کی ملازمت ہوگی۔چنانچہ ہوتا یہ تھا کہ ملازمت کے لیے منتخب ہونے کے بعد یہ خواتین خود کو کسی شراب خانے یا جسم فروشی کے اڈے پر پاتی تھیں، جہاں جلد ہی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہیں بار یا اڈے کے مالک سے ادھار لینا پڑ جاتا تھا، جس کے بعد وہ جسم فروشی کے نظام میں جکڑ لی جاتی تھیں۔جو عورت کلبوں میں کام کر کے ڈالر کماتی تھی اسے محب وطن سمجھا جاتا تھا۔ایک خاتون کا کہنا تھا: ’سنہ 1972 میں جب میں ملازمت کے لیے ایک سینٹر پر پہنچی تو وہاں پر موجود افسر نے مجھے کہا کہ ذرا کرسی سے اٹھو اور پھر بیٹھ جاؤ۔ اس نے مجھے دیکھا اور مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ مجھے ایک ایسی ملازمت دلائے گا جہاں رہنے کو جگہ اور کھانے کو ملے گا اور باقی سب چیزیوں کی ذمہ داری میرے باس کی ہو گی۔‘ سینٹر میں جمع خواتین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی جسم فروشی میں حکومت کی خاموش رضامندی شامل تھی کیونکہ اس وقت ملک کو غیر ملکی کرنسی کی بھی ضرورت تھی۔ ’ہر کوئی طوائفوں کو تو برا بھلا کہتا تھا، لیکن طوائفیں ملک میں جو ڈالر لا رہی تھیں وہ حکومت کو بہت اچھے لگتے تھے۔‘یہاں تک کہ اگر کوئی عورت کلبوں میں کام کر کے ڈالر کماتی تھی تو اسے کہا جاتا تھا کہ وہ محب وطن ہے، یعنی ایک محنتی کوریائی خاتون۔ ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ انھوں نے ان برسوں میں بہت ڈالر کمائے تھے۔اپنی دکھ بھری داستانیں سناتے ہوئے کبھی تو غصے سے ان خواتین کی آواز بلند ہو جاتی تھی اور کبھی غم میں ڈوب جاتی تھی۔میں نے ایک ملازمت کی پیشکش قبول کر لی اور میں بار میں پہنچ گئی۔ لیکن میں بار میں پہنچتے ہی وہاں سے بھاگ گئی۔ آخر کار کلب کے مالک نے مجھے دوبارہ پکڑ لیا اور مجھے ایک دوسرے کلب کے مالک کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ یہاں پہنچنے کے بعد میں نے پہلی مرتبہ جسم فروشی کی۔ایک خاتون نے بتایا: ’میں نے ایک ملازمت کی پیشکش قبول کر لی اور میں بار میں پہنچ گئی۔ لیکن میں بار میں پہنچتے ہی وہاں سے بھاگ گئی۔ آخر کار کلب کے مالک نے مجھے دوبارہ پکڑ لیا اور مجھے ایک دوسرے کلب کے مالک کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ یہاں پہنچنے کے بعد میں نے پہلی مرتبہ جسم فروشی کی۔‘ان خواتین کے دعوے اپنی جگہ، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا مقدمہ پیچیدہ ہے۔یہ سچ ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے جنسی صحت کے مراکز قائم کیے تھے، لیکن ان مراکز کی جگہ پہلے غیر سرکاری ڈاکٹر کام کر رہے تھے ان میں کچھ کی طبی تربیت درست نہیں تھی اور وہ ہر عورت کو یہ سرٹیفیکیٹ دے دیتے تھے کہ اس کی جنسی صحت بالکل ٹھیک ہے اور اس سے کسی مرد کو جنسی بیماری منتقل ہونے کا خطرہ نہیں ہے۔کوریا کی حکومت ان خواتین کے مقدمے پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کر رہی ہے، تاہم

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…