ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس کا خوف ،سرجیکل ماسک کی فروخت اور قیمت میں اضافہ 100 روپے والے ڈبے کی قیمت 500سے 1000 روپے تک پہنچ گئی

datetime 11  مئی‬‮  2021 |

سکھر(این این آئی)کورونا وائرس کا خوف ،سرجیکل ماسک کی فروخت اور قیمت میں اضافہ، مارکیٹ میں 100 روپے والے ڈبے کے ماسک کی قیمت 500سے 1000 روپے تک پہنچ گئی تفصیلات کے مطابق ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد سکھر سمیت اندرون سندھ

کے مختلف شہروں میں کورونا وائرس کا خوف پھیلا ہوا ہے وہی کوروناسے بچاؤ کے سلسلے میں سرجیکل ماسک سمیت دیگر جراثیم کش اشیائ کی فروخت اور قیمتوں میں بھی دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے کورونا وائرس کا خطرہ بڑھتے ہی سکھر میں بھی سرجیکل ماسک نایاب ہوگئے، مارکیٹ میں 100 روپے والے ڈبے کے ماسک کی قیمت 500سے 1000 روپے تک پہنچ گئی،جبکہ دوسری جانب روزگار کے حصول کیلئے شہریوں نے بھی سرکاری دفاتر کے باہر اور سڑکوں پر بھی ماسک فروخت کرنا شروع کردیا ہے اطلاع کے مطابق شہر کے میڈیکل اسٹوروں پربھی ماسک ختم ہوگئے اور سرکاری و غیر سرکاری اسپتالوں میں بھی ماسک دستیاب نہیں ہے۔دوسری جانب سکھر میں کورونا نے مزید ایک اور زندگی چھین لی ،ایک ہفتے کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں روزانہ اضافہ،میت کو ایس او پیز کے تحت ورثاء کے حوالے تفصیلات کے مطابق سکھرمیں کورونا نے مزید ایک زندگی چھین لی ہے گذشتہ روز سکھرسول اسپتال کے کوورڈ آئیسولیشن

وارڈ میں زیر علاج ٹکر محلہ چاند مسجد سکھر کی رہائشی 61 سالہ شاھین زوجہ محمد محبوب آرائین فوت ہوگی ہے جسے ایدھی سکھر کے رضاکاروں نے ورثائ کے ساتھ مل کر ایس اوپیز کے تحت میت تدفین کے لئیے ایدھی ایمبولینس کے زریعے ٹکر محلہ چاند مسجد سکھر پہنچایا واضع رہے کہ سول اسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے ،سکھر میں ہونی والی کورونا و مشتبہ کورونا میں جانبحق ہونے والے افراد کی تعداد 15ہوگئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…