پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

امیتابھ بچن نے مدد کی اپیل کر دی

datetime 11  مئی‬‮  2021 |

ممبئی (مانیٹرنگ +این این آئی)معروف بھارتی اداکار امیتابھ بچن نے کورونا کی بگڑتی صورتحال پر مدد کی اپیل کر دی، امیتابھ بچن نے  بھارت میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کیسز اور اس کے باعث ہونے والی اموات کے پیشِ نظر گلوبل سٹیزنز سے بھارت کی مدد کی اپیل کردی۔ ٹوئٹر پر امیتابھ بچن کی جانب سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں انھوں نے گلوبل سٹیزنز پر بھارت کی مدد کرنے پر

زور دیا۔امتیابھ نے کہا کہ میرا ملک بھارت اس وقت کوویڈ-19 کی اچانک بڑھتی ہوئی دوسری لہر سے نبردآزما ہے۔ امیتابھ بچن کا کہنا تھا کہ بطور گلوبل سٹیزن میں دنیا بھر کے گلوبل سٹیزنز سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اٹھیں اپنی اپنی حکومتوں اور فارماسوٹیکل کمپنیوں  سے بات کریں اور ان سے درخواست کریں کہ ایسے لوگوں کے لیے چندہ دیں اور ان کی مدد کریں جنھیں اس وقت اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی اداکار و یوٹیوبر راہول ووہرا عالمی وبا کی وجہ بننے والے کورونا وائرس کے باعث 35 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔انتقال سے قبل راہول ووہرا نے اپنے آفیشل فیس بک اکاؤنٹ سے کورونا وائرس اور اس کے علاج سے متعلق ایک مایوس کن پوسٹ کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ہدایت کار اور لکھاری اروند گوہر نے فیس بک پوسٹ کے ذریعے راہول ووہرا کے انتقال کی تصدیق کی۔انہوں نے لکھا تھا کہ کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد سے انہیں اس سے ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے صحت کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔بعدازاں ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ  راہول ووہرا اب نہیں رہے، میرے باصلاحیت اداکار اب نہیں رہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ  گزشتہ روز راہول نے بتایا تھا کہ اگر انہیں بھی بہتر علاج میسر ہوتا تو ان کی زندگی بچ سکتی تھی۔اروند گوہر نے کہا کہ راہول کو گزشتہ شام دوارکا میں آیوشمان منتقل کیا گیا تھا لیکن ہم انہیں نہیں بچاسکے، برائے کرم ہمیں معاف کردیں، ہم سب آپ کے مجرم ہیں۔اپنی آخری پوسٹ میں راہول ووہرا نے لکھا تھا کہ مجھے بھی اچھا علاج مل جاتا تو میں بھی بچ جاتا، تمہارا راہول ووہرا۔گزشتہ ہفتے راہول ووہرا نے ایک فیس بک شیئر کی تھی جس میں اپنے لیے ایک آکسیجن سلنڈر کی فراہمی کے لیے مدد طلب کی تھی۔انہوں نے لکھا تھا کہ میں کووڈ پازیٹو ہوں، ہسپتال میں داخل ہوں، لگ بھگ 4 دن سے لیکن کوئی ریکوری نہیں ہوں۔راہول ووہرا نے لکھا تھا کہ کیا کوئی ایسا ہسپتال ہے؟ جہاں آکسیجن مل جائے کیونکہ یہاں میرا آکسیجن لیول مسلسل کم ہورہا ہے اور کوئی دیکھنے والا نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…