ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

نوازشریف کے بعد شہباز شریف کے فرار کا فیصلہ اگر وزیر اعظم کی رضامندی کے بغیر ہوا ہے تو یہ ان کیلئے شرم کا مقام ہے حافظ حسین احمدکھل کر بول پڑے

datetime 8  مئی‬‮  2021 |

کوئٹہ /اسلام آباد( این این آئی)جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کے بعد اب میاں شہباز شریف کے فرار کا عدالتی فیصلہ اگر وزیراعظم عمران خان نیازی کی رضامندی کے بغیر ہی سب کچھ ہوا ہے تو عمران خان نیازی میں اگر کوئی قطرہ غیرت اب بھی باقی ہے تو عمران خان نیازی کوفوراً مستعفی ہوجانا چاہیے ، انہوں نے پی ڈی ایم کے نمائشی

سربراہ مولانا فضل الرحمن کو بڑے میاں نوازشریف کے بعد اب چھوٹے میاں شہباز شریف کو لندن بجھوانے کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مولانا اپنے تازہ کاروبار میں بھی کامیاب ہوتے جارہے ہیں اب مولانا فضل الرحمن کے رینٹل کنٹریکٹ میں صرف ایک مریضہ کی معمولی سی سرجری کے بہانے لندن بجھوانے کی ذمہ داری سر ہے جبکہ کہا جارہا ہے کہ اس کا بیعانہ بھی وصول شدہ ہے۔ وہ ہفتہ کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں میڈیا اور مختلف وفود سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رینٹل آزادی مارچ کے حوالے سے بڑے میاں نوازشریف کے جعلی لیبارٹری ٹیسٹ فراڈ کا سہارا لیا گیا تھا اور پھر 11ماہ باپ اور بیٹی خاموش رہ کر اس ڈیل کی تکمیل کی کوشش میں ناکامی کے بعد چھوٹے میاں کو اڈیالہ میں خصوصی بالغان کورس کے بعد حسب روایت عدالت کے ذریعہ عمران خان کے سینے پر دوبارہ مونگ دلنے سے پتہ نہیں چلتا ہے کہ اللہ ہی جانے کون اصل بااختیار ہے، انہوں نے کہا کہ چھوٹے میاں کا اسلام آباد کی گلی گلی جاتے وقت صرف2منٹ کے لیے پی ڈی ایم کے نمائشی سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملکر آشیرباد تو لے لیتے جو پھولوں کا گلدستہ تھامے شہباز شریف کے استقبال کے لیے موجود رہے، حافظ حسین احمد نے کہا کہ بڑے میاں کی فراڈ ڈیل کے ضامن بھی میاں شہباز شریف ہی تھے انہوں نے کہا کہ چھوٹے میاں کے بھگوڑے بننے کے بعد نہ بانس رہا اور نہ اب بانسر ی بجے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں کورونا کے نام پر اگرچہ لاک ڈاون ہے لیکن عدالتی این آر او اس سے مستثنیٰ قرار پائے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز اور شہباز کی لندن پرواز پیپلزپارٹی اور اے این پی کی علیحدگی سے نمائشی سربراہ مولانا فضل الرحمن کی حالت انتہائی قابل رحم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…