جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوں میں 20 فیصد کمی کیخلاف درخواست ،ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

datetime 5  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) ہائی کورٹ نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوں میں 20 فیصد کمی کے خلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔ بدھ کو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کی۔عدالت نے پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کی وکیل کو پیرا کا نوٹیفکیشن پڑھنے کی ہدایت کی ۔ وکیل پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن نے کہاکہ

ہمارے تین اعتراض ہیں کورونا کی وجہ سے بچوں کی آن لائن کلاسز ہورہی ہیں۔ وکیل شیریں عمران نے کہاکہ بلڈنگ کے کرایے دے رہے ہیں ، اساتذہ پڑھا رہے ہیں اخراجات پہلے کی طرح ہی ہیں،اسلام آباد میں 33 ہزار اساتذہ پرائیویٹ سکولز کے ساتھ منسلک ہیں۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیاکہ کیا پرائیویٹ سکولز منافع کماتے ہیں ؟ ۔ وکیل شیریں عمرا ن نے کہاکہ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ ہمیں سنا نہیں گیا ہم اسٹیک ہولڈرز ہیں ہمیں سنیں پھر فیصلہ کریں ،پیرا کے فیس اسٹریکچر رولز طے کرنے سے متعلق معاملہ ابھی آئی سی اے زیر التوا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ تو غیر معمولی حالات میں پیرا نے فیصلہ کیا ہے ،بھارت کی راجستھان ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ کیا پھر بھارتی سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ کیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ نے یہاں تک کہا کہ کورونا کے دوران فیس اگر نہیں بھی دی جاتی تو بچوں کو نکالا نہیں جائے گا۔عدالت نے وکیل پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کو بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھنے کی ہدایت کی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایسا تو نہیں ہے کہ منافع سے بڑھ کر آپ کو نقصان ہو رہا ہے ۔ وکیل پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن نے کہاکہ بچوں کی آٹھ آٹھ ماہ کی فیس ادا نہیں ہوئی ۔ وکیل شیریں عمران نے کہاکہ تین لائینیں نوٹیفکیشن میں لکھی گئیں ہیں وزارت تعلیم نے کہا کیسے فیصلہ ہوا کچھ نہیں لکھا ۔ بعد ازاں دلائل سننے کے بعد عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔‎



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…