بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

80 میں سے 59 اسامیوں پر پٹھان ملازمین اور افسران بھرتی پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی سروسز پٹھان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز میں تبدیل

datetime 2  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد ( آن لائن)صوبائی کوٹہ کی مسلسل خلاف ورزی کی و جہ سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی سروسز (پپس) پٹھان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز بن گیا ہے کیونکہ ہائوس آف فیڈریشن کا حصہ ہونے کے باوجود اس ادارے  میں صوبائی کوٹہ پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ۔ذرائع کے مطابق

پپس کی 80 آسامیوں میں سے 59 پر پٹھان ملازمین اور افسران بھرتی کئے گئے ہیں جبکہ باقی تینوں صوبوں کے کوٹہ پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا ،زیادہ تر ملازمین کا تعلق خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا کے علاقوں سے ہے ،پنجاب ،سندھ اور بلوچستان کو اس کا حق نہیں دیا جارہا جس کی وجہ سے صوبو ں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور انہوں نے پپس کے بورڈ آف گورنرز کے صدر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے مطالبہ کیا ہے کہ پپس میں بھرتیوں کے دوران صوبائی کوٹہ پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تا کہ قانون کی خلاف ورزی نہ ہو ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ متعدد اراکین سینیٹ میں بھی چیئرمین سینیٹ کے سامنے معاملہ اٹھایا ہوا ہے جبکہ دوسری طرف سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اپنے انتخابی حلقہ صوبائی سے 20 ملازمین کو پپس میں بھرتی کرنے کے لئے وہاں کی انتظامیہ پر دبائو بھی ڈال رہے ہیں اور سپیکر قومی اسمبلی نہیں چاہتے کہ صوبائی کوٹہ پر عملدرآمد ہو تا کہ وہ اپنے حلقوں کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ نواز سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…