بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

برطانوی عدالت کا بڑا فیصلہ قرنطینہ میں پاکستانی فیملیز کو حلال کھانے فراہم کرنے کا حکم

datetime 2  مئی‬‮  2021 |

لندن (این این آئی)برطانیہ کے ہائی کورٹ آف جسٹس نے اپنی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ پاکستانی فیملیز کے لیے قرنطینہ کے دوران سحر اور افطار میں حلال کھانوں کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق حکم ڈپٹی جج رچرڈ کلیٹن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے ، فیصلے کا اطلاق

قرنطینہ اختیار کرنے پر مجبور ہزاروں دیگر پاکستانیوں پر بھی ہوگا۔خیال رہے کہ پاکستانی نژاد شہری روبینہ راجہ کی جانب سے کورونا کے باعث قرنطینہ میں خوراک کی فراہمی سے متعلق مقدمے میں برطانیہ کے وزیر مملکت برائے امور صحت، ٹرانسپورٹ اور سوشل کیئر کو چیلنج کیا گیا تھا۔روبینہ راجہ22 اپریل کو پاکستان سے برطانیہ آئی تھیں اور انہیں گیٹ ویک ہوٹل میں قرنطینہ اختیارکرنا پڑاتھا۔ روبینہ راجہ نے درخواست کی تھی کہ روزے کی وجہ سے انہیں کھانا عام اوقات نہیں بلکہ سحر اور افطار میں فراہم کیا جائے تاہم ہوٹل نے انکار کر دیا تھا۔ایستھما کی مریضہ کے کمرے کی کھڑکیاں بھی سیل تھیں جس کے سبب انہیں سانس لینے میں دشواری تھی۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت جاری کی ہے کہ پاکستانی فیملی کو ہوٹل سے باہر دن میں دو بار ایکسرسائز کی اجازت دی کیونکہ کمرےمیں رہنے سے فیملی کی ذہنی صحت متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…