جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب میں تمام سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق نیا حکم جاری

datetime 27  اپریل‬‮  2021 |

اسلا م آبا ( مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن )پنجاب حکومت کا صوبے کے تمام سرکاری و نجی اسکولز بند کرنے کے احکامات جاری ۔محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے عید‏تک تمام سرکاری و پرائیویٹ اسکولز بند رکھے جائیں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق اسکولز بند کرنے کا فیصلہ کورونا کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر کیا‏گیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پنجاب کے صرف 25 اضلاع میں اسکولز بند کئے گئے تھے۔دوسری جانب وزارت تعلیم نے ملک بھر میں 15 جون تک تمام امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ہے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ 18 اپریل کو ہم نے این سی او سی کا جو آخری اجلاس کیا تھا اس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ امتحانات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا لیکن اس کے بعد سے 27 اپریل تک بیماری میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے ہم شاید ایک ایسی صورتحال کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں ہمیں زیادہ انفیکشن کے حامل علاقوں کا لاک ڈاؤن کرنا پڑے لہٰذا اسد عمر کی زیر صدارت ہونے والے این سی او سی اجلاس میں یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ 15 جون تک کوئی امتحان نہیں ہوں گے۔شفقت محمود نے کہا کہ آج سے لے کر 15 جون تک کوئی امتحان نہیں ہو گا اور نویں سے 12ویں جماعت کے جن امتحانات کو مئی کے آخر میں شروع ہونا تھا ، انہیں مزید ملتوی کردیا گیا ہے اور 15 جون تک کوئی امتحان نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہم حالات کا جائزہ لیتے رہیں گے اور مئی کے وسط یا تیسرے ہفتے میں بیماری کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا کہ ان امتحانات کو اور آگے لے کر جانا ہے یا ان کا آغاز کرنا ہے اگر 15 جون کے بعد امتحانات ہوتے ہیں تو یہ جولائی سے اگست تک طوالت اختیار کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ او لیول کے امتحان بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں جو اب اکتوبر نومبر کی سائیکل میں ہوں گے اور اسی طرح اے ایس کے امتحان بھی اب اکتوبر نومبر میں ہوں گے۔ جو بچے پاکستان کی

جامعات میں جانا چاہتے ہیں ان کے لیے ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جنوری تک ایڈمیشن ہوتے رہیں تاکہ بچوں کو ایڈمیشن اور یونیورسٹی جانے میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔ یہ سب کرنے کے باوجود بچوں کا ایک ایسا طبقہ رہ جاتا ہے جو مختلف مجبوریوں کی وجہ سے اگر وہ ابھی امتحان نہیں دیتے تو پھر ان کا سال ضائع ہوتا ہے تو اس پر بہت غوروفکر کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اے ٹو وہ چند بچے

جن کی کوئی مجبوری ہے کہ ستمبر سے آگے امتحان نہیں دے سکتے، تو ان کی سہولت کے لیے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ان کو جو ڈیٹ شیٹ جاری ہوئی ہے اس کے مطابق امتحان دینے کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کا سال ضائع نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ پیر کے بعد کسی بھی جگہ پر 50 سے زائد لوگ نہیں ہوں گے، اس کے لیے ہم نے درخواست کی ہے کہ اسکول کو وینیو بنایا جائے یا جو

موجودہ وینیو میں تعداد کم کر کے 50 تک لائی جائے۔ جہاں بھی امتحان ہوں گے وہ 50 سے زائد بچے نہیں ہوں گے اور اس کے باہر قانون نافذ کرنے والے ادارے تعینات کیے جائیں گے تاکہ مجمع اکٹھا نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ یہ مشکل وقت ہے اور مشکل وقت میں کوئی بھی فیصلہ آسان نہیں ہوتا اس لیے یقیناً بہت سارے والدین کو تسلی ہو گی کہ بچے کووڈ-19 کے ان دنوں میں امتحانات کے لیے نہیں جائیں گے جبکہ جن بچوں کی مجبوری ہے، ان کے لیے بھی بندوبست ہے لہٰذا ہم نے بچوں کے مستقبل کی خاطر یہ فیصلہ کیا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…