ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

’’آئین سے غداری کر کے نہ صرف اس جہاں بلکہ اگلے جہاں میں بھی سزا ملے گی ‘‘

datetime 9  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد( آن لائن ) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ محافظین آئین نے ہی آئین کے تحفظ کی قسم توڑی۔ اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا۔اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اسلام میں بنیادی حقوق اور آئین کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ

قائدِاعظم نے کہا کہ پاکستان کا آئین جمہوری ہوگا اور اسلامی قوانین پر مبنی ہوگا، قائد اعظم نے فرمایا کہ اسلام میں سب برابر ہیں اور عدل وانصاف کا بول بالا ہونا چاہیے، آئین ہر شہری عیسائی، ہندو و دیگر مذاہب کو بھی تحفظ دیتا ہے، ہم نے آئین نہیں سیکھا ،ہم نے تو اس کا اردو میں ترجمہ بھی نہیں کیا، بلکہ ہم نے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو قرآن کریم کے ساتھ کرتے ہیں، لوگوں کی ہوس نے آئین کو ٹھکرایا اور محافظین آئین نے جو قسم اٹھائی وہ انہوں نے توڑی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی اسکول میں آئین پاکستان پڑھایا جاتا ہے، امریکی اسکولوں میں آئین سکھایا جاتا تھا تاکہ کم عمری سے ہی طلباء کو آئین کا معلوم ہو، آئین پڑھنا بہت ضروری ہے کیونکہ پڑھ کر ہی ہمیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کیسے وجود میں آیا، ہمارے پاس اس وقت نصف پاکستان ہے کیونکہ آدھا حصہ ہم سے جدا ہو چکا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا، جس کی اگلے جہاں میں بھی سزا ملے گی، اگر آئین کو ہٹا دیں تو وفاق بھی ٹوٹ جاتا ہے اور پاکستانیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے آئین کی بنیاد اس بات پر رکھی گئی کہ پورے عالم پر اختیار اللّہ کا ہے، اسلام نے مزدوروں کے تحفظ پر خصوصی زور دیا، اسلام میں ہے کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اس کو اس کا معاوضہ دیا جائے۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…