جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

امریکہ اور ایران کا جوہری معاہدے پر ’ورکنگ گروپ‘ کے قیام پر اتفاق ہو گیا، بڑی پیشرفت

datetime 8  اپریل‬‮  2021 |

ویانا(این این آئی)آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان عالمی جوہری معاہدے پر بلواسطہ مذاکرات کا پہلا دور کامیابی سے مکمل ہوگیا۔عالمی میڈیاکے مطابق ویانا میں یورپی یونین کے توسط سے امریکا اور ایران کے درمیان عالمی جوہری معاہدے میں واپسی سے متعلق ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کا

پہلا دور مکمل ہوگیا جس میں جوہری معاہدے کے دیگر فریقین نے بھی شرکت کی۔امریکا اور ایران سمیت یورپی یونین اور جوہری معاہدے کے دیگر فریقین نے مذاکرات کے پہلے دور کو تعمیری اور مثبت قرار دیا ہے جب کہ مذاکرات میں شامل تمام فریقین نے ایران پر عائد پابندیوں اور امریکا کی جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے ایک ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔اپنے الگ الگ بیانات میں امریکا اور ایران نے کہا کہ انہیں فوری طور پر کسی کامیابی کی توقع نہیں ہے تاہم ابتدائی بات چیت مثبت رہی اور مستقبل میں بھی دونوں ممالک مثبت انداز میں پیشرفت جاری رکھیں گے۔امریکا اور ایران کے درمیان 2018 سے جاری تنائوکی وجہ سے خطے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے جس کے خاتمے کے لیے یورپی یونین نے بیڑہ اْٹھایا ہے اور ویانا میں دونوں ممالک کے ساتھ جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کے تمام رکن ممالک کو جمع کیا ہے۔واضح رہے کہ عالمی جوہری معاہدہ بارک اوباما دور میں 2015 میں کیا گیا تھا اور ٹرمپ 2018 میں اس سے علیحدہ ہوگئے تھے۔ معاہدے کے دیگر فریقین میں روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں۔ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اجلاس کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ یہ ممالک مشترکہ جامع منصوبے (جے سی پی او اے) کی بحالی کے طریقوں پر تبادلہ خیال

کریں گے جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر مئی 2018 میں ترک کردیا تھا۔ویانا میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے عباس آراغچی نے بتایا کہ ویانا میں مذاکرات تعمیری تھے، ہماری اگلی ملاقات جمعہ کو ہوگی۔انہوں نے ویانا مذاکرات کے آغاز سے کچھ ہی دیر قبل امریکا کی جانب سے ایران کو کی جانے والی پیش کش

کے حوالے سے کہا کہ ‘ہم یورینیم کی 20 فیصد افزودگی روکنے کے بدلے میں ایران کا (جنوبی کوریا میں منجمد) ایک ارب ڈالر کو جاری کرنے سے متعلق کسی بھی معاہدے کو مسترد کرتے ہیں۔روس کے نمائندے میہکائیل الیانوف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ یہ ملاقات کامیاب رہی۔انہوں نے کہا کہ جے سی پی او اے کی بحالی فوری طور پر نہیں ہوگی، اس میں کچھ وقت لگے گا لیکن کتنی دیر تک؟ کوئی نہیں جانتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…