جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

حکومتی نظام کو اپنی مرضی کے معنی دینے سے سنگین خرابیاں اور خامیاں جنم لیتی ہیں، جس سے ۔۔۔ براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ کی مزید تفصیلات آگئیں

datetime 6  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جسٹس (ر)عظمت سعید کی قیادت میں براڈ شیٹ کمیشن نے واضح کردیا ہے کہ کسی بھی وزارت ، اتھارٹی، سرکاری افسر یا حکومتی اہلکار کی جانب سے زبانی احکامات کو مستقبل حوالے کے طور پر فائل ریکارڈ پر نوٹ کے حصے ضبط تحریر لانا چاہئے۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق کمیشن نے یہ

بھی نوٹ کیا کہ حکومتی نظام کو اپنی مرضی کے معنی دینے سے سنگین خرابیاں اور خامیاں جنم لیتی ہیں، جس سے ملک کی ساکھ خراب ہوتی اور ملک کا مالی نقصان ہوتا ہے، اگر حکومتی ضابطہ کار پر سختی سے عمل درآمد ہوتویہ خامیاں اور خرابیاں پیدا ہی نہ ہوں اور ان سے بچا جاسکتا ہے۔ جس سے ملکی ساکھ، اور قومی خزانے کو بچایا جاسکتا ہے۔ کمیشن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاسی فائدے اور احکامات پر عمل درآمد کے لئے غیر ضروری دبائو کے نتیجے میں غلط فیصلے ہوتے ہیں۔جن سے قومی اور بین الاقوامی فورمز پر ملکی مفادات کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس بات کی سفارش کی گئی ہے کہ رولز آف بزنس 1973میں وضع کردہ طریقہ کار طے شدہ ہے ، لہذا یہ ہر سیاسی حکومت ، وزارت اور عملے کے لئے واجب تعمیل ہے تاکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی وزارتیں اور ڈویژن رولز آف بزنس کے تحت وزارت خزانہ و خارجہ امور سے مشاورت کریں

تاکہ بین الاقوامی اور تجارتی سمجھوتوں سے قبل وزارت قانون سے قانونی موقف معلوم کیا جاسکے۔ بین الاقوامی ثالثی کی شقوں سے متعلق معاملات وزارت قانون کی جانب سے اٹارنی جنرل کے دفتر کو پیش کردئیے جاتے ہیں۔ کوئی بھی محکمہ یا خودمختار ادارہ کو بین الاقوامی سمجھوتہ کرنے

کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ رولز آف بزنس کے تحت مشاورتی عمل لازمی ہے۔ کمیشن نے مزید کہا کہ مشاورت کا اصول بین الاقوامی یا مقامی این جی اوز پر بھی لاگو ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ اقتصادی امور ڈویژن اور وزارت داخلہ سے بھی صلاح و مشورہ ہونا چاہئے۔ بین الاقوامی معاہدہ

سرمایہ کاری سمجھوتوں پر مشاورت کے سلسلے میں وزارت قانون کے کردار کی رولز آف بزنس میں مزید وضاحت ہونی چاہئے۔ کمیشن نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ وزارتیں، ڈویژن ، متعلقہ محکمے ا ور خودمختار ادارے اہم امور پر ریکارڈ سنبھال کر نہیں رکھتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…