جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا؟ اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

datetime 3  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا، ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے

عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی، ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں۔ اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا۔ اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا؟ بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفیظ شیخ کی رخصتی کا سبب بنے۔ سابق وفاقی وزیر زبیر خان کی رائے میں مہنگائی کیلئے عبدالحفیظ شیخ سے زیادہ گورنر سٹیٹ بینک ذمہ دار ہیں۔ عبدالحفیظ شیخ گزشتہ ادوار میں بھی ملک کے وزیر خزانہ رہے،

ملکی اقتصادیات کو بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن انہیں اس سے قبل کبھی اس طرح رسوا رکن انداز میں رخصت نہیں کیا گیا۔ ندیم بابر کے معاملے میں بھی وزیراعظم اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ اسد عمر گو کہ براہ راست انتخابی عمل میں کامیابی سے گزر کر وزیر بنے۔ تحریک انصاف

کے اقتدار میں آنے سے قبل ہی انہیں ممکنہ وزیر خزانہ تصور کیا جارہا تھا۔ تاہم عبدالحفیظ شیخ کے فارغ ہوجانے پر بھی انہیں وزارت خزانہ نہیں سونپی گئی بلکہ حماد اظہر کو یہ منصب دے دیا گیا۔ وہ ایک منجھے ہوئے نوجوان سیاست دان ہیں لیکن انہیں دی گئی بھاری ذمہ داری کو نبھانے کا خاطر خواہ تجربہ نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…