جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

باراک اوبامہ کے گھر میں صف ماتم بچھ گئی

datetime 29  مارچ‬‮  2021 |

نیروبی (آن لائن) سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کی سوتیلی دادی 99 برس کی عمر میں کینیا میں انتقال کرگئیں۔  باراک اوبامہ کے کینیا کے اہل خانہ  نے  ان کی دادی کے انتقال کی تصدیق کردی ہے۔برطانویآن لائن اخبار دی میل کے مطابق خاندانی ذرائع نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر کی سوتیلی دادای سارہ اوبامہ کا انتقال کینیا کے شہر کسومو کے ایک اسپتال میں مقامی وقت کے مطابق

منگل کی صبح 4 بجے ہوا۔سابق امریکی صدر کی سوتیلی دادی جنہیں پیار سے ماما سارہ کہا جاتا تھا  نے کینیا کے کوجیلو گاؤں میں لڑکیوں اور یتیم بچوں کی تعلیم کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔سارہ اوبامہ کی بیٹی مارسیت اونیانگو اور خاندان کے ترجمان موسیٰ اسماعیل نے کہا کہ اس حوالے سے باراک اوبامہ کو ا?گاہ کردیا گیا ہے اور انہوں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔اگرچہ 99 سالہ ’ماما‘ سارہ کے ساتھ اوباما کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا لیکن وہ اْنہیں اپنی ’دادی‘ کہہ کر ہی بلاتے تھے اور پہلے بھی اْن کے ساتھ کئی بار ملاقات کر چکے تھے۔ سارہ اوباما  صدر اوباما کے دادا کی دوسری بیوی تھیں اور انہوں نے ان کے والد  باراک اوباما  سینئر کی پرورش میں مدد کی تھی۔  اوبامہ خاندان کا تعلق کینیا کے لیو نسلی گروہ  سے  ہے۔صدر اوبامہ اکثر اپنی سوتیلی دادی سے پیار کا اظہار کرتے تھے اور انہوں نے اپنی یادداشت میں انہیں ‘گرینی’ کے نام سے مخاطب کیا ہے۔خیال رہے کہ سال 2015 میں اپنے والد کے آبائی ملک کینیا کے  دورے کے دوران اوبامہ نیاپنے رشتے داروں کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں۔ ان رشتے داروں میں اوبامہ کی ایک سوتیلی بہن آؤما اور اْن کی سوتیلی دادی ’ماما‘ سارہ بھی شامل تھیں۔سارہ اوبامہ نے 2009 میں اوبامہ کی جانب سے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں بھی شرکت کی تھی۔ سال 2014 میں اوبامہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خطاب میں بھی ماما سارہ کا ذکر کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…