جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ایچ ای سی کو ختم کرنے کی کوشش، اعلی تعلیمی شعبہ کیلئے دھچکا،صدر اور وزیر اعظم کی منظور ی کے بعد ایچ ای سی آرڈیننس میں ترمیم کا مسودہ لاگو ہوجائے گا

datetime 26  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن ) حکومت کی جانب سے ایچ ای سی کو ختم کرنے کی کوشش اعلی تعلیمی شعبہ کیلئے دھچکا ہے ۔ایچ ای سی کا قیام 2002ء میں بغیرکسی قسم کی حکومتی سیاسی مداخلت کے ملک میں اعلی تعلیم کے بہترین معیار کو فروغ دینے کیلئے ایک بطور خود مختار ادارہ عمل میں لایا گیا تاہم باخبر ذرائع کے مطابق قانو ن سازی

کیسز بارے کابینہ کی کمیٹی کی جانب سے ایچ ای سی آرڈیننس میں حالیہ سخت ترامیم کے بعدیہ خودمختار ادارہ اب خطرے سے دوچا ر ہوچکا ہے ۔ان ترامیم میں تین بنیادی عنصر شامل ہیں ایک،ایچ ای سی چیئرمین اور ارکان کو فا رغ کرنا،دوسرا ان کی مدت ملازمت کو چار سال کی بجائے دوسال کرنا اور تبادلوں کا اختیار حکومت کے نامزد کردہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو دینا ہے جسے ایک نوٹس پر ہٹایا جاسکتا ہے دوسرے الفاظ میں اس کامقصد ایچ ای سی کو وزارت تعلیم کا ماتحت ادارہ بنانا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قانو ن سازی کیسز بارے کابینہ کی کمیٹی کی جانب سے ایچ ای سی آرڈیننس میں ترامیم اس کے ارکان میں اتفاق رائے قائم کئے بغیر عمل میں لائی گئی ہیں ۔ کمیٹی کے یکے بعد دیگرے دو اجلاس بلائے گئے جو بے نتیجہ رہے اس کے باوجود وزیر اعظم کے طاقتور پرسنل سیکرٹری اعظم خان گزشتہ اجلاس کے منٹس کو منظور کروانے میں کامیاب رہے ۔صدر اور وزیر اعظم کی منظور ی کے بعد ایچ ای سی آرڈیننس میں ترمیم کا مسودہ لاگو ہوجائے گا ۔ ذرائع نے بتایا کہ قومی میڈیا میں ایچ ای سی آرڈیننس میں ترمیم کیلئے عوامی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے پی ٹی آئی حکام نے ایچ ای سی آفیسرز ایسوسی ایشن اور فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کو متحرک کردیا ہے ۔تاہم حکومت کی جانب

سے ایچ ای سی کی خو دمختاری کو سلب کرنے کی کوششوں سے چاروں صوبوں میں اعلی تعلیمی شعبہ کو دھچکا پہنچا ہے ،وائس چانسلرز اور سینیئر فیکلٹی کو حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں پر شدید تشویش لاحق ہے ۔ایک وائس چانسلر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس میں یونیورسٹیوں میں اہم عہدوں پر کرپٹ اور غیرپیشہ ورانہ لوگوں کی بھرتی اور ایچ ای سی سمیت اداروں کی خودمختاری پربڑے پیمانے پر حملہ شامل ہے انکا کہناتھا

،یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی حکومت نے ایچ ای سی کو مٹانے کی کوشش کی ہو،2011ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے بھی اس حوالے سے قدم اٹھایا تھا جب اس وقت کے چیرمین ڈاکٹر جاوید لغاری کی قیادت میں ایچ ای سی نے اراکین پارلیمنٹ کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کردیا تھا تاہم اس کے باوجود اس وقت کی حکومت نے اپنے سیاسی فائدے کیلئے ایچ ای سی کے آرڈیننس میں ترمیم لانے کا اقدام نہیں کیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…