جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس،وکیل صفائی کا حیرت انگیز بیان، فیصلے کا وقت آن پہنچا

datetime 18  مارچ‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی)انسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت نے لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا جو ہفتہ کے روز سنائے جانے کا امکان ہے۔انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے کیمپ جیل میں کیس کی سماعت کی۔ملزمان کے وکلاء نے ملزموں کے دفاع جبکہ پراسیکیوشن ٹیم نے ملزموں

کیخلاف دلائل دئیے۔ پراسیکیوشن کے مطابق ملزموں کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، ملزموں کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے میچ کر کے گرفتار کیا گیا، ملزم شفقت علی نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنا جرم قبول کیا، ملزم عابد ملہی کو متاثرہ خاتون نے مجسٹریٹ کے سامنے شناخت کیا، ملزموں نے سنگین جرم کا ارتکاب کیا، شواہد کے روشنی میں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔وکیل صفائی نے موقف اپنایا کہ سی ڈی آر کے مطابق ملزم شفقت کی موجودگی ظاہر نہیں ہوئی، شفقت کی شناخت پریڈ گرفتاری کے 22 دن بعد کروائی گئی، شفقت کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ایک ماہ اور 18 دن کی تاخیر سے کروایا گیا، شفقت علی سے دبا ؤکے تحت اقبال جرم کروایا گیا، ملزم شفقت علی کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان قلمبند کروانے کیلئے فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا، قبول جرم کا بیان قلمبند کرواتے ہوئے مقدمہ کا تفتیشی افسر بھی عدالت میں موجود تھا، قانون کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو بیان قلمبند کرواتے ہوئے ملزم پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہونا چاہیے،ملزم کی شناخت پریڈ 22 روز کی تاخیر سے کی گئی، قانون ملزم کی شناخت پریڈ ایک ہفتے میں مکمل کرنے گنجائش دیتا ہے، جیل میں شناخت پریڈ کے دوران اسی اہلکار کے ذریعے متاثرہ خاتون کو جیل کے اندر لایا گیا جو ملزم کو پہلے دیکھ

چکا تھا، ملزم کو پہلے سے دیکھنے والے اہلکار کے ذریعے متاثرہ خاتون کو شناخت پریڈ کی جگہ پر لانا شناخت پریڈ کی کارروائی کو مشکوک کرتا ہے، انسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت کو شناخت پریڈ کا بھجوایا گیا ریکارڈ سربمہر نہیں تھا، ملزم عابد ملہی کی عمر دستاویزات میں 35 برس لکھی گئی جبکہ ملزم حقیقی عمر 20 برس ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو ہفتہ کے روز سنائے جانے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…