اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

جہازوں میں کوئی سیٹ تک ٹھیک نہیں ہوتی ہے اسکرین وغیرہ چلتی نہیں،فوڈ کوالٹی تک اچھی نہیں ہے،عدالت کے ریمارکس

datetime 18  مارچ‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائی کورٹ میں حویلیاں 2016 طیارہ حادثہ کیس کی تحقیقات سے متعلق درخواست کی سماعت پرسول ایوی ایشن اور پی آئی اے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے جب بھی دیکھا ہے کوئی سیٹ تک ٹھیک نہیں ہوتی ہے اسکرین وغیرہ چلتی نہیں ہے،فوڈ کوالٹی

تک اچھی نہیں ہے۔ جمعرات کوسندھ ہائی کورٹ میں حویلیاں 2016 طیارہ حادثہ کیس کی تحقیقات سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔سول ایوی ایشن اور پی آئی اے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔پی آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ سماعت پر درخواست گزار نے کچھ دستاویزات جمع کرائی تھیں اس حوالے سے ہم نے اپنا جواب جمع کرادیاہے۔ہم یہ دستاویزات پہلے ہی جمع کراچکے ہیں فوٹو کاپی کراکہ دوبارہ جمع کرادئیے ہیں۔ دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے ایئر ویجیلنس حکام سے استفسار کیا کہ ایئر ویجیلنس حکام بتائیں کہ کیا مستقبل میں اس حوالے سے اقدامات کررہے ہیں۔ اے ٹی آر گراؤنڈ ہورہے ہیں پی آئی اے حکام نے بتایا کہ چھ جہاز اے ٹی آرہیں تین اگست کو گراؤنڈ ہوجائیں گے ہمارے پاس ٹوٹل بیس جہاز ہیں جنہیں باقاعدگی سے سول ایوی ایشن چیک کرتی رہتی ہے مستقبل بنیادوں پر روزانہ کی بنیاد پر چیک کرتے ہیں۔جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے جب بھی دیکھا ہے کوئی سیٹ تک ٹھیک نہیں ہوتی ہے اسکرین وغیرہ چلتی نہیں ہے،فوڈ کوالٹی اچھی نہیں ہے کمبل تک نہیں ہوتا ہے پوچھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ نیا چیف آیا ہے فنڈ نہیں ہیں کوئی چیز اپنی جگہ کام ہی نہیں کرتا کوئی اسکرین چل رہی ہوتی ہے کسی کو کمبل ملتا کسی کو نہیں عملہ کا رویہ تک ٹھیک نہیں ہوتا ہے جس پر پی

آئی اے حکام نے بتایا کہ کیبن کی منٹینس ہمارے پاس ہے ٹرپل سیون کے انٹریٹمنٹ کم ہیں بہت تبدیلیاں آرہی ہیں اب حالات وہ نہیں رہے ہیں جس پر جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو سال ہوگئے ہیں آپ کو بھی لیکن ہوا کچھ نہیں ہے حکام پی آئی اے نے کہا کہ چند ماہ درکار ہیں ہمیں اس کے بعد بہت بہتری آجائے گی

عدالت نے کہا کہ درخواست گزار اقبال کاظمی اور شہید کیپٹن کی والدہ شاہدہ منصور پیش نہیں ہوسکیں ہیں لہذا ائیر ویجیلنس حکام سے آئندہ سماعت پر انسپیکشن سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں اور بتائیں کہ ائیر ویجیلنس کے پلان آف ایکشن اور بہتری سے متعلق بھی بتائیں عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 15 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…