جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پروپوزل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی سے نکالے جانے والے جوڑے نے شادی کرلی

datetime 18  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)لاہور یونیورسٹی میں ایک دوسرے کو کھلے عام شادی کی پیشکش کرنے پر یونیورسٹی سے نکالے جانے والے جوڑے نے شادی کرلی ، سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ایک اخباری خبر کو لڑکی نے شیئرکرتے ہوئے لکھا کہ ” جزاک اللہ” ۔ اس اقدام سے تصدیق ہوتی ہے کہ دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے ہیں ۔

دلہن نے دیگر لوگوں کا بھی شکریہ اداکیا۔اس سے قبل حدیقہ اور شہریار کے اپنے اپنے اکائونٹ سے الحمداللہ کا ٹوئٹ بھی سامنے آیا تھا۔یادرہے کہ پروپوزل کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی تھی جبکہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے انہیں درسگاہ سے ہی بے دخل کردیا تھا جس کے بعد متعدد معروف شخصیات کی جانب سے ان کی حمایت بھی کی گئی۔اس حوالے سے سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آنے والے لڑکے شہریار کا لڑکی کی حمایت میں بیان سامنے آیا تھا۔نوجوان نے کہا تھا کہ لڑکی معصوم ہے لہذا اس کی تصاویر یوں سوشل میڈیا پر وائرل نہ کی جائیں۔شہریار نے لکھا کہ لڑکی کے کردار کے بارے میں کوئی بات نہ کریں کیونکہ اس سے اسے اور اس کے اہل خانہ کو اذیت پہنچے گی ، وہ پہلے ہی پریشان ہیں اور اپنی بیٹی کے بارے میں فکر مند ہیں۔دوسری جانب وفاقی وزارت انسانی حقوق نے لاہور یونیورسٹی میں لڑکی کے پروپوز کرنے کے بعد طالب علم اور طالبہ کو فارغ کرنے کا نوٹس لے لیا۔

وفاقی پارلیمانی سیکریٹری انسانی حقوق لال چند مالہی نے گورنر پنجاب اوریونیورسٹی کے وائس چانسلر کو خط لکھ کر دونوں طلبا کو دوبارہ داخلہ دینے کا مطالبہ کر دیا۔پارلیمانی سیکرٹری انسانی حقوق نے کہا کہ دو طلبہ کی جانب سے ایک دوسرے کو پروپوز کرنا ناجائز کام نہیں،

جوڑے کو فارغ کرنے سے پہلے ان کا موقف لینا ضروری تھا، اخلاقی اقدار کو کس صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا مگر اتنا سخت ایکشن لینے کے اثرات اچھے نہیں ہونگے، یونیورسٹی کے اس شدید ردعمل کی وجہ سے دونوں طلبا کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔لال چند مالہی نے

کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے طلباء کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بجائے یونیورسٹی میں مشاورتی سنٹرز کھولنے چاہئیں، اسٹوڈنٹس کو یونیورسٹی سے نکالنے کا فیصلہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے، لہذا داخلہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…